Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
319 - 4047
حدیث نمبر 319
روایت ہے حضرت نواس ابن سمعان سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دجال کاذکر فرمایا تو فرمایا اگر وہ نکلا اور میں تم میں ہوا تو تمہارے بغیر اس کا مقابل میں ہوں گا ۱؎  اور اگر نکلا اور میں تم میں نہ ہوا تو ہر شخص اپنی ذات کا محافظ ہے۲؎  اور ہر مسلمان پر اللہ میرا خلیفہ ہے۳؎ وہ جوان ہے سخت گھونگر بال۴؎  اس کی آنکھ ابھری ہوئی ہے گویا میں اسے عبدالعزیٰ ابن قطن سے تشبیہ دیتا ہوں۵؎ تو تم میں سے جو اسے پائے تو اس پر سورۂ کہف کی شروع کی آیتیں پڑھے اور ایک روایت میں ہے کہ اس پر سورۂ کہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے کہ وہ تمہارا امان ہے اس کے فتنہ سے۶؎  وہ شام و عراق والے راستے سے نکلے گا تو داہنے بائیں فساد پھیلائے گا۷؎  اے اللہ کے بندو ثابت قدم رہنا ۸؎ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ اس کا زمین میں ٹھہرنا کتنا ہے فرمایا چالیس دن ۹؎  ایک دن سال کی طرح ہوگا اور ایک دن مہینہ کی طرح اور ایک دن ہفتہ کی طرح اور بقیہ دن تمہارے عام دنوں کی طرح ۱۰؎ ہم نے عرض کیا یارسول اللہ تو یہ دن جو ایک سال کی طرح ہوگا کیا اس میں ہم کو ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی فرمایا نہیں تم اس کے لیے اندازہ لگالینا ۱۱؎  ہم نے عرض کیا یارسول اللہ زمین میں اس کی تیز رفتاری کیسی ہوگی فرمایا جیسے بادل جس کے پیچھے ہوا ہو۱۲؎ وہ ایک قوم پر آوے گا انہیں بلائے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے تو آسمان کو حکم دے گا وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے گا وہ اگائے گی ان کے جانور آئیں گے جیسے پہلے تھے اس سے زیادہ دراز کوہان والے اور زیادہ بھرے ہوئے تھن والے اور زیادہ لمبی کوکھوں والے۱۳؎  پھر ایک دوسری قوم کے پاس آئے گا انہیں بلائے گا وہ اس کی بات رد کردیں گے وہ ان کے پاس سے لوٹ جاوے گا۱۴؎ تو یہ لوگ قحط زدہ رہ جاویں  گے۱۵؎ کہ ان کے ہاتھوں میں ان کے مال میں سے کچھ نہ رہے گا۱۶؎  اور ویرانہ پرگزرے گا اس سے کہے گا اپنے خزانے نکال تو اس کے پیچھے یہ خزانے شہد کی مکھیوں کی طرح چلیں گے۱۷؎ پھر ایک جوانی سے بھرے ہوئے شخص کو بلائے گا اسے تلوار سے مار کر اس کے دوٹکڑے کرکے تیر کے نشان پر پھینک دے گا۱۸؎ پھر اسے بلائے گا تو وہ آجاوے گا اور اس کا چہرہ چمکتا ہوگا وہ ہنستا ہوگا جب کہ وہ اس طرح ہوگا کہ اللہ تعالٰی مسیح ابن مریم کو بھیجے گا۱۹؎  آپ دمشق کے مشرقی سفید مینارے کے پاس دو زعفرانی کپڑوں کے درمیان اتریں گے۲۰؎  اپنے ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے جب اپنا سر جھکائیں گے تو قطرے ٹپکیں گے اور جب اٹھائیں گے تو اس سے قطرے ٹپکیں گے موتیوں کی طرح ۲۱؎  پھرکسی کافر کوممکن نہ ہوگا کہ آپ کی سانس پائے مگر مرجاوے گا اور آپ کی سانس وہاں تک پہنچے گی۲۲؎  جہاں تک آپ  کی نظر جاوے گی آپ اسے تلاش کریں گے یہاں تک کہ اسے باب لد میں پائیں گے۲۳؎ تو قتل کریں گے پھر حضرت عیسیٰ کے پاس وہ قوم آوے گی جنہیں اللہ نے دجال سے محفوظ رکھا تو آپ ان کے چہرے صاف فرمائیں گے۲۴؎ اور انہیں ان کے جنتی درجات کی خبر دیں گے وہ اس طرح ہوں گے کہ حضرت عیسیٰ کو رب تعالٰی وحی کرے گا کہ میں نے اپنے بندے نکالے ہیں جن سے لڑنے کی کسی میں طاقت نہیں تو میرے بندوں کو طور کی طرف لے جاؤ۲۵؎  اور اللہ یا جوج ماجوج کو بھیجے گا جوہر ٹیلے سے ڈورتے آئیں گے۲۶؎ تو ان کی اگلی جماعت بحیر طبریہ پر گزرے گی اس کا سارا پانی پی جاوے گی۲۷؎ ان کی آخری جماعت گزرے گی تو کہے گی کہ کبھی یہاں پانی تھا حتی کہ جبل خمر تک پہنچیں گے،یہ بیت المقدس کا ایک پہاڑ ہے۲۸؎ تو کہیں گے کہ ہم نے زمین والوں کو تو قتل کر دیا آؤ آسمان والوں کو قتل کریں۲۹؎ تو اپنے تیر آسمان کی طرف چلائیں گے تو اللہ ان کے تیر خون سے رنگین لوٹائے گا۳۰؎ اور اﷲ کے نبی اور ان کے ساتھی محصور رہیں گے حتی کہ ان کے لیے ایک بیل کی سری سو اشرفیوں سے بڑھ کر ہوگی۳۱؎ جو تمہارے لیے آج ہے تب اللہ کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی متوجہ الی اللہ ہوں گے۳۲؎ تب اﷲ ان یاجوح ماجوج کی گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کرے گا تو وہ سب ایک شخص کی موت کی طرح مردہ ہوجائیں گے۳۳؎ پھر اللہ کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی زمین کی طرف اتریں گے تو زمین میں بالشت بھر زمین ایسی نہ پائیں گے جو ان کی لاشوں اور بدبو نے نہ بھردی ہو۳۴؎ تب اللہ کے نبی عیسیٰ اور ان کے ساتھی اللہ تعالٰی سے دعا کریں گے تو اللہ تعالٰی پرندے بھیجے گا۳۵؎ اونٹ کی گردن کی طرح وہ انہیں اٹھا کر جہاں اللہ چاہے گا پھینک دیں گے۳۶؎ اور ایک روایت میں ہے کہ انہیں نھبل میں پھینک دیں گے۳۷؎ اور مسلمان ان کی کمانیں ان کے کمانوں ان کے نیزوں اور ترکش سات سال تک جلائیں گے۳۸؎پھر اللہ تعالٰی بارش بھیجے گا جس سے نہ کوئی گھر مٹی کا بچے گا نہ اون کا تو وہ زمین کو دھودے گی۳۹؎حتی کہ اسے شیشہ کی طرح کر چھوڑے گی۴۰؎ زمین سے کہا جاوے گا تو اپنے پھل اُگا اور اپنی برکت لوٹا دے تو اس دن ایک انار سے ایک جماعت کھائے گی اور اس کے چھلکے سے سایہ لے گی۴۱؎ اور دودھ میں برکت دی جاوے گی حتی کہ تازہ جنی ہوئی اونٹنی لوگوں کی ایک جماعت کو کافی ہوگی اور نئی جنی ہوئی گائے ایک قبیلہ کو کافی ہوگی اور نئی جنی ہوئی بکری لوگوں کے ایک خاندان کو کافی ہوگی۴۲؎  جب کہ وہ اسی حالت میں ہوں گے کہ اللہ ایک خوشگوار ہوا بھیجے گا وہ انہیں ان کی بغلوں کے نیچے لگے گی تو ہر مسلمان ہر مؤمن کی روح قبض کرلے گی۴۳؎ اور بدترین لوگ رہ جائیں گے جو زمین میں گدھوں کی جفتی کی طرح زنا کریں گے ان پر قیامت ہوگی۴۴؎(مسلم)سوا دوسری روایت کے اور یہ قول ہے کہ انہیں نھبل میں پھینک دے گی سبع سنین تک ۴۵؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ یہ فرمان عالی بالفرض ہے یعنی فرض کرلو کہ اگر وہ میری موجودگی میں آگیا تو تم کو اس سے کوئی نقصان نہ پہنچے وہ میرے ہی ہاتھوں فنا ہوجاوے گا،اس کی شعبدے بازیاں میرے مقابل ناکارہ ہوجائیں گی۔اس فرمان عالی سے دو فائدے حاصل ہوئے: ایک یہ کہ اگرچہ اس مردود کا ظہور ابھی نہیں ہوگا مگر اس سے ڈرنا رکن ایمان ہے تم اس سے خوف کرو جیسے قیامت ابھی نہیں آئے گی مگر اس سے ڈرتے رہو۔خوف قیامت خوف دجال درحقیقت خوف خدا کا ذریعہ ہیں۔دوسرے یہ کہ دجال اگرچہ مارا جاوے گا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں لیکن اگر میرے زمانہ میں آجاتا تو میرے ہاتھوں ہی فنا ہوجاتا بلکہ عیسیٰ علیہ السلام بھی حضور کے نائب ہونے کی حیثیت سے اسے قتل کریں گے۔

۲؎  یعنی ہر شخص اپنی ذات کے لیے اس کا مقابلہ دلائل عقلیہ و شرعیہ سے کرے کہ دلائل سے سوچے کہ یہ خدا نہیں ہوسکتا۔یہاں بھی حجیح بمعنی مقابل ہی ہے مگر یہ مقابلہ اسے قتل کرنے کا نہیں بلکہ اپنے ایمان بچانے کا ہے۔ (مرقات)گویا حضور صلی اللہ علیہ و سلم دجال کو فنا کرنے کے لیے اس کے مقابل ہیں اور یہ ہرشخص اس سے بچنے کے لیے اس کا مقابل۔

۳؎  یہاں خلیفہ بمعنی وکیل و محافظ ہے۔اگر اس وقت ہم حیات ہوتے تو مسلمانوں کی حفاظت ہم کرتے،اب چونکہ ہم نہ ہوں گے تو میری طرف سے میرا رب میری امت کی حفاظت کرے۔اس سے معلوم ہوا بفضلہ تعالٰی مؤمن ہمیشہ منصور و محفوظ رہتا ہے۔

۴؎  بالوں میں قدرے خم جسے جعد کہتے ہیں بہت اچھا ہے مگر بہت زیادہ خمی کہ بالوں کے کنڈل بن جاوے جسے قطط کہتے ہیں یہ بری ہے،دجال کے بال بہت ہی خم دار ہوں گے۔

۵؎  عبدالعزیٰ زمانہ جاہلیت میں ایک مشرک بادشاہ گزرا ہے،اس کی بدصورتی عرب میں مشہور تھی بلکہ اس کے دیکھنے والے لوگ اس وقت موجود تھے،حضور نے اس سے تشبیہ دی۔چونکہ دجال کی صورت بہت ہی بری ہوگی کہ اس جیسا بدشکل دنیا میں کوئی نہ گزرا نہ اس وقت ہوگا اس لیے حضور انور نے جزم و یقین سے تشبیہ نہ دی بلکہ کانّی فرمایا یعنی اسے کچھ کچھ مشابہت عبدالعزیٰ سے ہوگی ورنہ وہ عبدالعزیٰ سے کہیں بدتر ہوگا۔معلوم ہوتا ہے کہ حضور انور نے اگلے پچھلے اپنی نگاہوں سے دیکھے ہیں کہ عبدالعزیٰ پہلے گزرچکا ہے اور دجال آئندہ ہوگا مگر دونوں حضور کے علم و نظر میں ہیں۔(از مرقات)

۶؎  یعنی اس زمانہ میں جو کوئی سورۂ کہف کی شروع آیات کذبا تک پڑھتا رہے گا وہ دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے۔ان آیات میں یہ ذکر ہے کہ اصحاب کہف دقیانوس بادشاہ کے فتنے سے محفوظ رہے،ان کی حفاظت کی برکت سے اللہ انہیں دجال کے فتنہ سے محفوظ رکھے گا۔جواز کا لفظی ترجمہ ہے پاسپورٹ کہ وہ ذریعہ امان ہوتا ہے۔بعض روایات میں ہے کہ سورۂ کہف کی شروع کی دس آیات ہمیشہ پڑھنے والا دجال کے فتنہ سے محفوظ رہے گا،بعض لوگ ہمیشہ،بعض لوگ ہر جمعہ کو پڑھتے ہیں تاکہ موجودہ دجالوں سے بچے رہیں۔

۷؎  خلہ نقطہ خ سے ریگستان میں راستہ وسیع،حلہ ح بغیر نقطہ سے کوفہ و بغداد کے درمیان ایک شہر ہے۔بعض روایات میں حلہ ہی ہے،وہاں کے لوگ اب بھی شریر ہیں۔(مرقات)

۸؎ اس میں ندا اس زمانہ کے مسلمانوں سے ہے۔(مرقات)

۹؎  بعض روایات میں ہے کہ چالیس سال قیام کرے گا مگر وہ روایت ضعیف ہے،صحیح روایت چالیس دن کی ہے۔

۱۰؎  حدیث بالکل ظاہر پر ہے۔واقعی پہلا دن ایک سال کے برابر دراز ہوگا،اب بھی گرمیوں میں دن بجائے آٹھ گھنٹے کے چودہ گھنٹہ کا ہوتا ہے۔بعض لوگوں نے کہا کہ غم و اندوہ کی وجہ سے وہ دن سال برابر معلوم ہوگا مگر یہ غلط ہے جیساکہ اگلے مضمون سے معلوم ہورہا ہے۔

۱۱؎ اس طرح کہ اس دن سورج نکلتے ہی فجر کی نماز پڑھنا پھر آٹھ گھنٹہ بعد ظہر پڑھ لینا،پھر چار گھنٹہ کے بعد عصر پھر دو گھنٹہ بعد مغرب اور دو گھنٹہ بعد عشاء،پھر چھ گھنٹہ کے بعد فجر اس طرح پڑھے جانا شاید موجود گھڑیاں اس دن کے حساب کے لیے رب تعالٰی نے پیدا فرمادی ہیں۔معلوم ہوا کہ جن ملکوں میں بعض زمانہ میں عشاء کا وقت نہیں آتا وہاں عشاء کی نماز معاف نہ ہوگی بلکہ پڑھنا پڑھے گی اندازہ سے جیسے لندن میں سال میں چند دن ایسے آتے ہیں کہ نماز عشاء کا وقت نہیں آتا شفق غائب نہیں ہوتی۔یہاں مرقات نے فرمایا کہ یہ حکم خاص اس دن کے لیے ہے خلاف قیاس ورنہ نماز کے اوقات سورج کی حرکت سے وابستہ ہیں اس سال بھر کے دن میں بھی پانچ نمازیں ہی چاہئیں مگر چونکہ حدیث میں یہ حکم آگیا تو اس دن کے لیے قیاس چھوڑ دیا گیا۔چنانچہ اس دن میں رمضان کا روزہ،نماز جمعہ و عیدین نہ پڑھی جائیں گی اگرچہ دن سال بھر کا ہے اور سال میں یہ چیزیں ہوتی ہیں۔

۱۲؎  اس تشبیہ سے معلوم ہورہا ہے کہ دجال اڑتا ہوا دنیا کی سیر کرے گا،ہوائی جہاز ایجاد ہوچکے ہیں جن سے تھوڑے عرصہ میں دنیا کا چکر لگایاجاسکتا ہے یعنی جیسے بادل کے پیچھے جب ہوا ہو تو بہت تیز اڑتا ہے ایسے ہی وہ بہت تیز اڑے گا،آج آواز سے زیادہ رفتار والے ہوائی جہاز ایجاد ہوچکے ہیں۔

۱۳؎  یہ رب تعالٰی کی طرف سے خاص آزمائشیں ہوں گی کہ جو لوگ اسے خدا مان لیں گے ان پر بارش نہایت مناسب، پیداوار نہایت اعلیٰ،ان کے جانوروں کے دودھ،گھی میں بہت زیادتی ہوجاوے گی،ان کے اونٹ بہت مو ٹے تازہ اونچے ہو جاویں گے،دوسرے لوگ ان کی اس فراخی کو دیکھ کر دھوکہ کھا جائیں گے کہ واقعی وہ خدا ہی ہے۔دیکھو اس نے اپنے ان بندوں کو کیسا آرام سے اور مالدار کردیا وہ لوگ ان لوگوں کی مالداری و عیش کو دیکھ کر اسے خدا مان لیں گے۔

۱۴؎  اس فرمان عالی سے معلوم ہورہا ہے کہ دجال کسی کو کفر پر مجبور نہ کرسکے گا،یہ شعبدے دکھا کر مائل ہی کرے گا، رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ"یہ بھی معلوم ہوا کہ بعض بندے دلائل کے ذریعے اس کی شر سے محفوظ رہیں گے۔

۱۵؎   محل بنا ہے محل سے بمعنی خشکی و قحط سالی یعنی ان پر نہ تو بارش ہوگی نہ ان کی زمین میں سبزہ رہے گا۔

۱۶؎  یعنی ان کا اپنا پہلا مال بھی فنا ہوجاوے گا،جانور یا خشک ہوجاویں گے یا مرجاویں گے،گھروں میں تباہی آجاوے گی مگر یہ لوگ راضی بہ رضا رہیں گے۔

۱۷؎  یعنی آبادیوں میں جاکر تو وہ آفت ڈھائے گا اور ویرانہ زمینوں میں پہنچ کر یہ فساد پھیلائے گا اس کے ساتھ اس کے ہالی موالی بہت رہیں گے،ویرانوں کے خزانوں کو اپنے ساتھ لے لے گا جنہیں ان کے ساتھ والے نکلتے دیکھیں گے اور دوسرے لوگوں کو یہ سب بتائیں گے۔یعاسیب جمع ہے یعسوب کی بمعنی شہد کی مکھیوں کی سردار مکھی کہ جب وہ اڑاتی ہے تو اس کے ساتھ سارے چھتے کی مکھیاں اڑتی ہیں اس لیے سردار کو یعسوب کہا جاتا ہے۔یعاسیب جمع فرماکر ارشارۃً بتایا کہ بے شمار مکھیوں کی طرح اس کے ساتھ بے شمار خزانے چلیں گے،یہ خزانے یا تو بذات خود چلیں گے یا کسی سواری میں جیسے آج لاکھوں من سامان ریل،موٹر،بحری جہاز،ہوائی جہاز دوڑتے تیر تے اڑتے پھررہے ہیں۔

۱۸؎  یہ جوان آدمی یا تو اس کے متبعین میں سے ہوگا،لوگوں کو اپنی قوت دکھانے کے لیے یہ حرکت کرے گا یا ان میں سے ہوگا جو ان کی پیروی نہ کریں گے اسے سزا دینے کے لیے یہ حرکت کرے گا۔تلوار سے اسے چیر دے گا جیسے آرے سے چیرا جاتا ہے اور دونوں ٹکڑے اتنے فاصلہ پر پھینکے گا جو تیر اور اس کے نشانہ کے درمیان ہوتا ہے یعنی بہت دور۔

۱۹؎  یعنی اس کی ایک آواز پر یہ دونوں ٹکڑے حرکت کرکے آپس میں مل جاویں گے پھر پورا جسم بن کر اس میں جان پڑجاوے گی اور وہ جوان دوڑتا ہوا آجاوے گا۔ہم نے بعض جادوگروں کو دیکھا کہ آدمی کو چادر اوڑھا کر اس کا گلہ کاٹ دیتے ہیں اورپھر اسے اچھا خاصا کھڑا کردیتے ہیں مگر یہ شعبدہ ہوتا ہے غالبًا وہ حقیقتًا یہ کرے گا۔

۲۰؎  اللہ تعالٰی جھوٹے مسیح کو سچے مسیح کے ذریعے ہلاک کرے گا اس لیے اس مردود کو حضرت مہدی قتل نہ کریں گے کہ اس کام کے لیے حضرت مسیح منتخب ہوچکے ہیں۔مھزودتین تثنیہ ہے،مھزودۃ بمعنی غوطہ دیا ہوا یعنی آپ کے جسم شریف پر گیرویا زعفران رنگے ہوئے دو کپڑے ہوں گے تہبند چادر۔

۲۱؎  جمان گھنگرو کے دانہ یا موتی کی طرح گول قطرے جو نہایت صاف شفاف و سفید ہوں،آپ خود نہایت حسین ہوں گے آپ کا یہ پسینہ نہایت پاکیزہ و خوشودار ہوگا۔

۲۲؎  بعض شارحین نے فرمایا کہ نفس سے مراد سانس نہیں بلکہ دم کرنا ہے یعنی آپ جب دم کرنے کی نیت سے پھونک لگائیں گے تو آپ کا دم تاحد نظر پہنچے گا اور جس کافر کو لگے گا وہ مرے گا۔اللہ کی شان ہے کہ پہلے اسی دم سے مردے زندہ ہوتے تھے اور اب زندہ کافر مردہ ہوں گے۔یا جوج و ماجوج کفار پر آپ کریں گے ہی نہیں کیونکہ ان کی موت اور طرح سے واقع کرنا ہے،بعض نے فرمایا کہ نفس سے مراد سانس ہی ہے۔

۲۳؎  لد بیت المقدس کی قریب ایک بستی ہے،اس بستی کے دروازے میں گھستے ہوئے اسے پائیں گے کہ وہ وہاں داخل ہو رہا ہوگا اسے دروازہ پر ہی قتل کردیں گے اندر داخل نہ ہونے دیں گے جیسے شداد اپنی جنت کے دروازے پر ہی قتل کردیا گیا۔

۲۴؎  یعنی ان مؤمنین کے چہرے جو گردوغبار سے اٹے ہوں گے جیساکہ عام غرباء فقراء کا حال ہوتا ہے،اسے خود حضرت مسیح اپنے ہاتھ شریف سے صاف کریں گے یا محبت و کرم سے ان کے چہروں پر ہاتھ پھیریں گے مگر پہلے معنی قوی ہیں جیساکہ عن وجوھھم فرمانے سے معلوم ہورہا ہے۔آپ غبار صاف فرماتے جائیں گے اورا نہیں جنت کی بلکہ وہاں کے درجات کی خبر دیتے جائیں گے۔

۲۵؎  یعنی اے عیسیٰ دجال تو آیا اور ہلاک ہوگیا اب کچھ روز کے لیے ایک بڑی مخلوق یا جوج ماجوج اس زمین پر آرہے ہیں جن کی ہلاکت تمہارے ہاتھوں سے نہیں بلکہ تمہاری بد دعا سے ہوگی اس لیے یہ زمین خالی کر دو،طور پہاڑ ان کی شر سے محفوظ رہے گا ان مسلمانوں کو وہاں لے جاؤ۔یہ ان کو تنبیہ فرما کر بتایا گیا کہ کسی انسان میں دونوں ہاتھوں سے بھی ان کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔

۲۶؎ یعنی جب یا جوج ماجوج کی دیوار ٹوٹے گی تو وہ ہر طرف سے دوڑتے ہوئے اس زمین پر آئیں گے ان کی کثرت سے زمین بھرجاوے گی۔

۲۷؎  یعنی ان کی کثرت کا یہ حال ہوگا کہ دریا کا سارا پانی انکا اگلا حصہ ہی پی جاوے گا اور دریا خشک کردے گا۔بحیرہ تصغیر ہے بحر کی،بحیرہ طبریہ شام کے علاقہ میں دس میل لمبا دریا ہے،طبریہ ایک بستی کا نام ہے اردن کے علاقہ میں وہاں یہ دریا ہے اس لیے اسے بحیرہ طبریہ کہتےہیں۔

۲۸؎  خمر کے معنی ہیں چھپنا ڈھانپنا،اسی سے ہے خمار دوپٹہ،چونکہ وہ پہاڑ بہت سرسبز ہے کہ اس کی پوری زمین سبزہ اور درختوں سے چھپی ہوئی ہے اس لیے اسے جبل خمر کہتے ہیں یعنی سبزہ سے ڈھکاہوا پہاڑ۔(لمعات،مرقات)

۲۹؎  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان تو طور پہاڑ میں محفوظ ہوچکے ہوں گے مگر زمین  میں کفار بہت ہوں گے یعنی دجال کو مان لینے والے وہ یاجوج ماجوج کے ہاتھوں مارے جائیں گے حتی کہ زمین میں ان میں سے کوئی نہ بچے گا اس لیے یہ یاجوج ماجوج کہیں گے کہ زمین والوں کو تو ہم مار چکے آؤ آسمان والے فرشتوں کو بھی مار لیں تاکہ دنیا میں ہم ہی رہیں ہمارے سوا کوئی نہ رہے۔

۳۰؎ ممکن ہے کہ یہ تیر چڑیوں کے لگیں ان کے خون میں بھیگ کر لوٹیں۔اس میں اشارۃً یہ فرمایا کہ یاجوج ماجوج کا فساد صرف زمین میں نہ ہوگا بلکہ فضا میں بھی ہوگا۔

۳۱؎  چونکہ اس زمانہ میں مسلمان صرف کوہ طور پر رہیں گے کہیں جا آ نہ سکیں گے اس ہی لیے باہر سے مال کی درآمد برآمد بند ہوگی لہذا قحط بہت پڑ جاوے گا اور باوجودیکہ وہ علاقہ بہت سرسبز و شاداب ہے،پھر گرانی کا یہ حال ہوگا کہ جو قدر آج سو دینار کی ہے اس سے زیادہ قدر قیمت گائے کی ایک سری کی ہوگی،مسلمانوں پر یہ زمانہ بہت تنگی کا گزرے گا،جب گائے کی سری کی یہ قیمت ہوگی تو باقی گوشت کی قیمت ا ندازہ لگا لو،سری بہت سستی ہوتی ہے۔

۳۲؎  اس طرح کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قوم یا جوج ماجوج کی ہلاکت کی دعا کریں گے مؤمنین آمین کہیں گے۔نبی اﷲ فرماکر یہ بتایا گیا کہ اس وقت بھی عیسیٰ علیہ السلام نبی ہوں گے نبوت کے منسوخ ہونے سے ان کے احکام بندوں پر جاری نہیں ہوتے مگر ان کا درجہ عند اللہ وہ ہی رہتا ہے۔اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام جناب خضر کے پاس گئے تو ان کی نبوت منسوخ نہ ہوئی تھی مگر وہاں آپ نبوت کی شان سے نہ گئے تھے نہ حضرت خضر پر توریت کے احکام جاری فرمائے تو جب دینِ مصطفوی میں عیسیٰ علیہ السلام آویں گے تو قرآنی احکام ہوتے ہوئے اپنی منسوخ شریعت کے احکام کیسے جاری کریں گے،مرزائیوں کو اس میں غور کرنا چاہیے۔

۳۳؎  یعنی ایک آن کی آن میں سب ہلاک ہوجائیں گے انہیں مرتے ہوئے ایک ساعت بھی نہ لگے گی،یہ پتہ نہ لگا کہ یہ لوگ زمین میں کتنے دن رہیں گے۔

۳۴؎  یعنی تمام روئے زمین ان مردودوں کی لاشوں اور بدبو سے بھرا ہوگا،مسلمان اس قید سے نکل تو آئیں گے مگر اس مصیبت سے زمین میں کاروبار تو کیا چل پھر بھی نہ سکیں گے۔

۳۵؎  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا اور مسلمانوں کی آمین پر یہ پرندے رب تعالٰی بھیجے گا جو تعداد میں بے شمار ہوں گے،جسامت میں بہت بڑے اور طاقتور کہ ایک پرندہ یا جوج کی لاش اٹھائے گا،کہاں سے آئیں گے اور کہاں غائب ہوجائیں گے یہ رب جانے۔ٹڈی دل ہم نے آتے دیکھا ہے نہ معلوم کہاں سے آتا ہے اور پھر کہاں غائب ہوجاتا ہے، ان پرندوں کی شکل بختی اونٹوں کی گردنوں سے ملی ہوگی۔

۳۶؎  یہ بھی رب تعالٰی کی قدرت ہی ہوگی کہ اتنی زیادہ لاشیں جن سے روئے زمین بھری ہوگی نہ معلوم کہاں غائب کردی جائیں گی اس جگہ کا ذکر آگے آرہا ہے۔

۳۷؎  نہبل بروزن منبر بمعنی بڑا پہاڑ۔اور یہ ایک بستی کا نام بھی ہے جو بیت المقدس کے قریب ہے۔غالبًا اس بستی کا یہ نام اس پہاڑ کے نام سے ہے جیسے ہمارے پنجاب میں سانگلہ ہل ایک شہر کا نام ہے اس کے ایک پہاڑ کے نام پر جہلم ایک شہر ہے دریا جہلم کے نام پر،اس چھوٹی سی جگہ میں اتنی لاشوں کا سماجانا بھی اللہ تعالٰی کی قدرت ہی سے ہوگا۔

۳۸؎  یعنی یاجوج ماجوج تو مر جائیں گے مگر اپنی تیر ترکش،کمانیں اتنی بڑی تعدا دمیں چھوڑ جائیں گے کہ سات سال تک مسلمان انہیں جلا کر اپنے سب کام چلائیں گے مفت کی لکڑی پائیں گے۔

۳۹؎  اس فرمان کا تعلق یا جوج ماجوج کی ہلاکت سے ہے یعنی ان مردودوں کے ہلاک ہو جانے اور ان کی نعشیں پھینک دیئے جانے پر عالمگیر بارش آوے گی،یہ مطلب نہیں کہ سات تیر و کمان ترکش چلاچکنے کے بعد بارش آوے گی۔

۴۰؎  زلقہ قاف سے بمعنی صاف آئینہ،زلفہ سے اس کے بہت معنی ہیں: دھلی زمین،صاف تشتری،سبز رنگ کا صاف گھڑا،سیب،صاف پتھر،صاف کردہ زمین،یہاں زلفہ ف سے بھی ہوسکتا ہے اور قاف سے بھی ہرمعنی درست ہیں ز اور لام کے فتحہ سے۔

۴۱؎  یعنی ایک انار اتنا بڑا ہوگا کہ اس کے دانوں سے ایک پوری جماعت شکم سیری ہوجاوے اور اس کا چھلکا پورے خیمہ کی طرح ہوگا۔فحف کھوپڑی کے پیالہ کو کہتے ہیں،چونکہ انار کا چھلکا کھوپڑی کی طرح گول اور ڈھلوان ہوتا ہے اس لیے اسے فحف فرمایا گیا کوہ مری اور شملہ کی ایک ہری مرچ میں ڈیڑھ پاؤ قیمہ بھر جاتا ہے۔

۴۲؎  لقحہ لام کے کسرہ قاف کے سکون سے نوزائیدہ مادہ جانور خواہ اونٹنی ہو یا گائے یا بکری۔خیال رہے کہ نوزائیدہ کا دودھ کم ہوتا ہے،کچھ دن بعد جب خون ڈال دیتی ہیں تب دودھ بڑھتا ہے۔فرمایا جارہا ہے کہ جب نوزائیدہ یعنی نئی نئی بیاہی ہوئی مادہ جانور کے دودھ میں ایسی برکت و کثرت ہوگی تو سمجھ لو کہ پرانی ہوکر اس کا دودھ کتنا ہوگا،ان احادیث میں تاویل کی ضرورت نہیں۔ہم نے پہاڑ کے آلو دیکھے ہیں ایک آلو ڈیڑھ سیر بلکہ دو سیر کا،آزادکشمیر کی مولی بہت موٹی بہت لمبی کہ ایک آدمی ایک مولی اٹھا سکتا ہے،رب تعالٰی کی قدرت ہمارے خیال سے ورا ہے۔ہم نے دوسرے حج کے موقعہ پر طائف کے انار دیکھے چھوٹے تربوز کے برابر جن کے دانے چھوٹے آلو کے برابر ایک انار کے شربت سے بوتل بھر جاتی تھی اور جدہ کے تربوز اس زمانہ میں اتنے بڑے دیکھے کہ سبحان اللہ! لہذا یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔

۴۳؎  یہاں مسلم و مؤمن ہم معنی ہیں،مسلم مؤمن کی تفسیر ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بہت عرصہ بعد ہوگا جب کہ دنیا میں پھر کافر پھیل چکے ہوں گے۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں دنیا میں کوئی کافر نہ رہے گا سب مسلمان ہوچکے ہوں گے یا قتل۔کبھی مسلم و مؤمن میں فرق کیا جاتا ہےکہ ظاہری اطاعت کرنے والا مسلم اور دل سے عقائد اسلامیہ کو ماننے والا مؤمن۔یہ ہوا ایک غیبی ہوا ہوگی جو ہر مسلمان کی جان نہایت آسانی سے نکال لے گی۔

۴۴؎  ھرج بمعنی قتل بھی آتا ہے اور بمعنی زنا بھی یہاں بمعنی زنا ہے۔ہرج کے لغوی معنی خلط ملط ہونا ہے خواہ قتل کے لیے خواہ زنا کے لیے عورت و مرد کا اختلاط یہاں دوسرے معنی میں ہے۔بعض شارحین نے بمعنی قتل فرمایا ہے مگر پھر گدھوں سے تشبیہ درست نہیں ہوگی،گدھا جفتی کے وقت رینگتا ہے جس سے دور تک خبر ہوجاتی ہے اس لیے یہاں گدھے سے تشبیہ دی نہ کہ دوسرے جانور سے اگرچہ چیل بھی اس وقت چیختی ہے مگر گدھے سے کم اس کی آواز آتی ہے لہذا گدھے سے تشبیہ نہایت ہی موزوں ہے۔

۴۵؎  یعنی اتنی عبارت ترمذی شریف میں ہے مسلم میں نہیں۔
Flag Counter