۱؎ یہاں اعور بمعنی عیب ناک ہے لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا ہے کہ اس کی داہنی آنکھ کانی تو بلکل سپاٹ ہوگی اور بائیں آنکھ عیب دار ہوگی۔غرضکہ کوئی آنکھ بے عیب نہ ہوگی،یا یہ مطلب ہے کہ کسی کو اس کی داہنی آنکھ کانی محسوس ہوگی کسی کو بائیں آنکھ،یہ فرق احساس کا ہوگا نہ کہ واقعہ کا۔یہ بھی ایک قدرتی کرشمہ ہوگا وہ مردود سب کچھ کر دکھائے گا مگر اپنی آنکھ نہ درست کرسکے گا۔
۲؎ جفال جیم کے پیش سے بمعنی کثیر بہت مگر ہر بہت کو جفال نہیں کہتے بلکہ بہت بالوں کو جفال کہا جاتا ہے۔بعض نے فرمایا کہ بندھے ہوئے بڑے جوڑے کو جفال کہتے ہیں۔
۳؎ اس کی شرح ابھی گزر گئی کہ اس کا باغ بظاہر باغ معلوم ہوگا حقیقتًا دوزخ ہوگا اور اس کی آگ بظاہر آگ ہوگی حقیقتًا باغ جیسے جناب خلیل کی آگ حقیقتًا باغ بحر قلزم کا پانی حقیقتًا آگ بن گیا تھا۔شعر
گلستان کند آتشے برخلیل گرو ہے بد آتش بروز آب نیل