Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
317 - 4047
حدیث نمبر 317
روایت ہے حضرت حذیفہ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ فرمایا دجال نکلے گا اور اس کے ساتھ پانی ۱؎ اور آگ ہوں گے لیکن جسے لوگ پانی دیکھیں گے وہ آگ ہوگی جو جلا ڈالے گی اور جسے لوگ آگ دیکھیں گے وہ ٹھنڈا میٹھا پانی ہوگا۲؎ تو تم میں سے جو یہ پائے وہ اس میں جائے جسے آگ دیکھے کہ وہ میٹھا عمدہ پانی ہے (مسلم، بخاری)مسلم نے یہ زیادہ فرمایا کہ دجال آنکھ کا کانا ہے جس پر موٹا ناخونہ ہے۳؎  اس کی آنکھوں کے درمیان لکھا ہے کافر جسے ہر پڑھابے پڑھا مسلمان پڑے گا۴؎
شرح
۱؎  پانی سے مراد صرف پانی نہیں جو نعمتیں پانی سے پیدا ہوتی ہیں وہ سب مراد ہیں لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں کہ اس کے ساتھ  باغ اور آگ ہوں گے۔(مرقات)

۲؎ یا تو یہ باغ و آگ محض شعبدہ ہوں گے جیسے جادو گر شعبدے  باز  مٹی کو روپیہ بنا کر دکھا دیتے  ہیں یا حقیقتًا یہ  ہی ہوں گے ، دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں ۔ایک ہی چیز کا  ایک   کے لیے باغ دوسرے کے لیے آگ ہونا ممکن بلکہ واقع ہے۔ایک قبر میں دو شخص دفن ہوجاویں ایک مؤمن دوسرا کافر تو یہ ایک قبر مؤمن کے لیے جنت کا باغ ہے کافر کے لیے دوزخ کی بھٹی،ایک بستر پر دو آدمی سورہے ہیں ایک شخص اچھی خو اب دیکھ کر مزے لے رہا ہے دوسرا شخص اس بستر پر بری خواب دیکھ کر گھبرا رہا ہے۔یہ باغ و آگ اس کے ساتھ ایسے چلیں گے جیسے آج ریل کے انجن میں پانی کا حوض اور آگ دوڑتے پھرتے ہیں آج ریل  بحری جہاز،ہوائی جہاز  کی سیر کرو معلوم ہوگا کہ  آرام دہ مکانات  کھیلنے کے  میدان پاخانہ  غسل خانہ  باروچی خانہ  دوڑتے پھر رہے ہیں بلکہ ہوا میں اڑ رہے ہیں۔

۳؎ یعنی دجال کی ایک آنکھ تو ہوگی ہی نہیں وہ حصہ سر کے پیچھے کی طرح صاف ہوگا،دوسری آنکھ کانی ہوگی ابھرے ہوئے انگور کی طرح یا اس کی ایک آنکھ کبھی صاف سپاٹ ہوگی،کبھی ابھرا ہوا انگور یا کسی کو وہ آنکھ سپاٹ نظر آوے گی،کسی کو ابھرا انگور لہذا یہ حدیث گزشتہ احادیث کے خلاف نہیں جن میں اس کی آنکھ کو ابھرا ہوا انگور فرمایا گیا ہے۔(مرقات شرح مشکوۃ)

۴؎  یعنی اس تحریر کو مؤمن تو بے پڑھا بھی پڑھ لے گا سمجھ لے گا اور کافر پڑھا لکھا بھی نہ سمجھ سکے گا یہ بھی قدرت خداوندی ہوگی۔
Flag Counter