| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ کیا میں تم کو دجال کے متعلق وہ بات نہ بتاؤں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہ بتائی وہ کانا ہے ۱؎ اور وہ اپنے ساتھ جنت دوزخ کی مثل لائے گا۲؎ جسے وہ جنت کہے گاوہ آگ ہوگی ۳؎ میں تم کو ایسےڈراتا ہوں جیسے اس سے حضرت نوح نے اپنی قوم کو ڈرایا ۴؎ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی پچھلے انبیاء کرام نے اپنی امتوں کو دجال کے دوسرے عیوب سے تو آگاہ کیا مگر اس کا کانا ہونا صرف میں ہی بیان کرتا ہوں۔ ۲؎ یہ فرمان عالی بالکل ظاہر معنی پر ہے۔واقعی اس کے ساتھ خوشنما باغ بھی ہوگا اور ہیبت ناک آگ بھی۔ ۳؎ یعنی جو آگ دکھائی دے گی وہ واقعہ میں باغ ہے اور جو باغ معلوم ہوگا وہ واقعہ میں آگ ہے جیسے دنیا عارفین کی نظر میں کہ اس کی نعمتیں حقیقت میں لعنتیں یعنی عذاب ہیں اور یہاں کی تکالیف حقیقت میں رحمت ہیں۔نمرود کی آگ بظاہر آگ تھی مگر حضرت خلیل کے لیے باغ،دریا نیل کا پانی بظاہر پانی تھا مگر فرعونیوں کے لیے آگ،یہ آنکھوں کا دھوکا ہے۔شعر سوف تری اذا تجلل غبار افرس تحتك ام حمار ۴؎ تاکہ نوح علیہ السلام سے لے کر آخر تک کی امتیں دجال کا بدترین فتنہ ہونا معلوم کرلیں۔خیال رہے کہ دجال کسی جگہ چند دن ٹھہرے گا نہیں بلکہ آندھی کی طرح دنیا میں پھر جاوے گا تاکہ کوئی اس کی حالت میں غور کرکے اسے جھٹلائے نہیں۔اس وقت جسے اﷲ ایمان پر قائم رکھے گا وہ ہی رہے گا۔مشکل سے ہزار میں ایک اس کے شر سے محفوظ رہے گا۔اس وقت امن مدینہ منورہ میں ہو گی۔اس فرمان عالی سے معلو م ہورہا ہے کہ نوح علیہ السلام سے پہلے نبیوں نے دجال سے نہیں ڈرایا تھا یہ ڈرانا حضرت نوح سے شروع ہوا۔