۱؎ حق یہ ہے کہ یہاں دجال سے مراد وہ ہی دجال ہے جو قریب قیامت نکلے گا اگرچہ ان انبیاءکرام کو خبر تھی کہ ہماری امتیں اسے نہ پائیں گی،پھربھی اس سے ڈرانا اہتمام ظاہر کرنے کے لیے کہ وہ بڑی ہی ہیبت ناک چیز ہے اس سے پناہ مانگو یہ پناہ مانگنا بھی عبادت ہے۔دیکھو جن صحابہ کو حدیث وقرآن نے انکے جنتی ہونے کی بشارت دے دی وہ بھی دوزخ سے پناہ مانگتے رہے کیونکہ یہ عمل عبادت ہے۔بعض شارحین نے فرمایا کہ دجال کے نکلنے کا وقت معین نہیں مگر یہ قوی نہیں کیونکہ اس کے قاتل عیسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کا نزول قریب قیامت ہی ہے۔
۲؎ یعنی تم اس کے بندہ ہونے اور کافر ہونے اور شرارتی ہونے میں شک نہ کرنا یہ دونوں علامتیں اس کے کافر اور بندہ ہونے کی ہیں۔اپنی آنکھ کو درست نہ کرسکنا علامت بندگی ہے اور ک،ف،ر اس کے کفر کی علامت ہے۔یہاں مرقات نے لکھا کہ مادر زاد کانا شرارتی ہوتا ہے۔خیال رہے کہ یہ حروف ہر پڑھا بے پڑھا آدمی پڑھے گا۔