۱؎ حدیث شریف میں جب عبداﷲ مطلق آتا ہے تو اس سے مراد حضرت عبداﷲ ابن مسعود ہوتے ہیں وہ ہی یہاں مراد ہیں۔
۲؎ یعنی اے لوگو! دجال کے حیرت انگیز کرشمے دیکھ کر اسے خدا نہ سمجھ لینااس کی بندگی کی دلیل اس کی اپنی کانی آنکھ ہے وہ اپنے کو شفا نہ دے سکے گا۔
۳؎ یعنی دجال کی داہنی آنکھ کانی بھی ہوگی اور اوپر کو انگورکی طرح ابھری ہوئی جو ہر شخص کو نظر آوے اپنے اس عیب کو دور نہ کرسکے گا۔خیال رہے کہ جو خدا ہونے کا دعویٰ کرے اس کے ہاتھ پر عجیب کرشمے ظاہر ہوسکتے ہیں کیونکہ الوہیت تو مشتبہ ہوسکتی ہی نہیں مگر جو نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے اس کے ہاتھ پر کوئی کرشمہ ظاہر نہیں ہوسکتا ورنہ نبوت مشتبہ ہو جاوے۔دجال اگر دعویٰ نبوت کرے تو کوئی عجوبہ نہیں دکھا سکتا یہ خوب خیال رکھو۔یہاں مسیح بمعنی اسم مفعول ہے یعنی ممسوح العین ایک آنکھ کا کانا،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو مسیح کہتے ہیں وہاں مسیح بمعنی اسم فاعل ہے یعنی برکت کے لیے چھونے والے اور چھو کر مردے زندہ، بیماروں کو اچھا کرنے والا۔طافیہ بنا ہے طفی سے بمعنی اوپر ہونا اور ابھرنا اس لیے جو مچھلی پانی پر تر کر آ جاوے اسے طافیہ کہتے ہیں۔