۱؎ یہ علامتیں ان علامات سے پہلے ہیں جو ان کے بعد آنے والی ہیں۔اولیت سے مراد اولیت اضافی ہے نہ کہ اولیت حقیقی۔ان تینوں میں دھواں اور دجال پہلے ہیں اور آفتاب کا مغرب سے نکلنا ان دونوں کے بعد۔
۲؎ یعنی اس عجیب الخلقت جانور کو ظاہر ہونا دوپہر کے وقت ہوگاکہ اس وقت مکہ معظمہ میں دوپہر ہوگی اگرچہ دوسرے ملکوں میں سویرا یا شام یا رات ہو،یا یہ مطلب ہے کہ وہ جانور جہاں بھی پہنچے گا دوپہر کو پہنچے گا کہ اس وقت عام طورپر لوگ باہر ہوتے ہیں،نیز اس وقت جو چیز دیکھی جاتی ہے وہ یقینی ہوتی ہے۔
۳؎ اس حدیث میں ابہام ہے،صراحۃً بیان نہ فرمایا گیا کہ ان میں سے پہلے کونسی علامات ہوگی اور بعد میں کون سی،دوسری احادیث میں اس کی تفصیل ہے جو ابھی کچھ پہلے عرض کی گئی،ہاں یہاں اتنا ہے کہ یہ علامات آپس میں قریب قریب ہیں۔