۱؎ چونکہ ان علامات کے ظہور پر قیامت کا سب کو یقین ہوجاوے گا اس لیے اب قیامت غیب نہ رہے گی بلکہ شہادت بن جاوے گی اور ایمان بالغیب معتبر ہے اس لیے اب نہ ایمان معتبر ہوگا نہ اس وقت کی توبہ قبول ہوگی۔خیال رہے کہ توبہ کا دروازہ سورج کے مغرب سے نکلنے پر بند ہوگا۔یہاں ثلاث فرمانا ایسا ہے جیسے قرآن کریم فرماتاہے:"یَخْرُجُ مِنْہُمَا اللُّؤْلُؤُ وَ الْمَرْجَانُ"کہ موتی مونگے کھاری سمندر سے نکلتے ہیں نہ میٹھے سے مگر فرمایا دونوں سے نکلتے ہیں،ایسے ہی توبہ قبول نہ ہونے کو تغلیبًا ان تینوں علامتوں کی طرف نسبت فرمایا گیا۔
۲؎ سورج کا یہ طلوع دجال اور دابۃ کے بعد ہے مگر چونکہ دروازہ توبہ بند اسی پر ہوگا اس لیے اس کا ذکر پہلے فرمایا۔ (مرقات)
۳؎ دجال ا ور دابہ پہلے ہیں طلوع بعد میں،دجال کے نکلنے پر توبہ کا دروازہ بند نہ ہوگا۔عیسیٰ علیہ السلام دجال کے قتل کے بعد دنیا بھر کے کفار کو مسلمان کریں گے،اس وقت جزیہ کا مسئلہ ختم ہوجاوے گا اسلام یا قتل ہوگا جیساکہ دوسری احادیث میں ہے کہ اگر اس وقت ایمان و توبہ قبول نہ ہوں تو مسلمان کرنے کے کیا معنی۔