Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
308 - 4047
باب العلامات بین یدی الساعۃ و ذکر الدجّال

قیامت کے سامنے والی علامات  ۱؎  اور دجّال کا بیان ۲؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎ ان علامات سے مراد قیامت کی دس بڑی بڑی علامات ہیں ورنہ قیامت کی چھوٹی بڑی بہت علامات ہیں جو پہلے مذکور ہوئیں جیسے امام مہدی کا ظہور وغیرہ۔

۲؎  دجال بروزن قوال مبالغہ کا صیغہ ہے،بنا ہے دجل سےبمعنی جھوٹ یا فریب وغیرہ یا ملمع سازی یا حق و باطل کا خلط ملط،چونکہ دجال میں یہ تمام عیوب ہوں گے اس لیے اسے دجال کہتے ہیں۔دجال دو قسم کے ہیں: چھوٹے اور بڑے چھوٹ دجال بہت ہوئے اور ہوں گے،ہر جھوٹا نبی،جھوٹا مولوی صوفی جو لوگوں کو گمراہ کریں وہ دجال ہیں۔بڑا دجال صرف ایک ہے جو دعویٰ خدائی کرے گا اس کا نام اس کی قوم کا پتہ نہیں چلا۔مشہور یہ ہے کہ اس کی اصل یہود سے ہوگی۔واللہ ورسولہ اعلم! جب اللہ و رسول نے اس کی یہ باتیں بیان نہ فرمائیں تو ہم تحقیق کرنے والے کون۔مرزا قادیانی کہتا تھا کہ انگریز دجال ہیں،ریل ان کا گدھا ہے اور میں مسیح موعود انہیں فنا کرنے والا ہے لوگ اتنا نہیں سوچتے کہ ریل دجال کا ایسا گدھا ہے جس پر یہ مسیح صاحب زندگی میں سوار ہوتے رہے اور بعد مرنے ان کی لاش لاہور سے قادیان تک اسی گدھے پر گئی ا ور خود انگزیزوں کی غلامی میں مرے انہیں تو کیا مارتا خود انگریزوں کی موجودگی میں ہلاک ہوا۔
حدیث نمبر 308
روایت ہے حضرت حذیفہ ابن اسید غفاری سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہم  پر تشریف لائے جب کہ ہم کچھ تذکرے کر رہے تھے تو فرمایا کیا تذکرہ کرتے ہو، صحابہ نے عرض کیا کہ ہم قیامت کا تذکرہ کررہے ہیں، فرمایا قیامت ہرگز نہ آوے گی حتی کہ اس سے پہلے دس نشانیاں دیکھ لو پھر حضور نے دھواں۲؎ دجال جانور۳؎ سورج کا مغرب کی طرف سے نکلنا،عیسیٰ علیہ السلام کا اترنا اور یا جوج و ماجوج۴؎  اور تین دھنسنے ایک دھنسنا پورب میں دوسرا پچھم میں اور ایک دھسنا عرب کے جزیرہ میں۵؎  اور ان سب کے آخر میں وہ آگ جو یمن سے نکلے گی ۶؎ لوگوں کو ان کی قیامت گاہ کی طرف ہانک دے گی ۷؎ اور ایک روایت میں ہے کہ وہ آگ جو عدن کے بیچ سے نکلے گی لوگوں کو محشر کی طرف ہانک دے گی ۸؎  اور ایک روایت میں ہے دسویں علامت کے بارے میں ہے کہ وہ ہوا جو لوگوں کو دریا میں ڈال دے گی ۹؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ صحابی ہیں،بیعت رضوان میں شریک ہوئے،آخر میں کوفہ قیام رہا۔

۲؎  حق یہ کہ اس دھوئیں سے مراد وہ دھواں نہیں جو ہجرت سے پہلے قریش کو قحط سالی میں سخت بھوک کی وجہ سے محسوس ہوا تھا بلکہ اس دھواں سے مراد قریب قیامت والا وہ دھواں ہے جو قریب قیامت مشرق و مغرب میں پھیل جاوے گا،جس سے مسلمانوں کو زکام سا محسوس ہوگا اور کفار دیوانہ ہو جائیں گے یہ دوران چالیس دن رہے گا۔

۳؎  یہ جانور مکہ معظمہ کے حرم کعبہ سے نمودار ہوگا۔صفا مروہ پہاڑوں کے درمیان سے یہ چوپایہ ہے ساٹھ گز قد،اس کے مختلف اعضاء بدن مختلف جانوروں کے سے ہوں گے،اس کے پاس عصاءموسوی،مہر سلیمانی ہوگی،ہرشخص کو پکڑ کر اس کی پیشانی پر مہر سلیمانی لگائے گا۔جس پر سفید نقش نمودار ہوں وہ مؤمن ہوگا،سیاہ نقش والا کافر،اس جانور کا ذکر قرآن مجید میں بھی ہے "اَخْرَجْنَا لَہُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ تُکَلِّمُہُمْ"۔مرقات نے فرمایا کہ یہ جانور تین بار نکلے گا: امام مہدی کے زمانہ میں،پھر نزول عیسیٰ علیہ السلام کے بعد،پھر  آفتا ب کے مغرب سے  نکلنے کے  بعد ۔(مرقات)

۴؎  ان علامات کے ظہور کی ترتیب یہ ہے(۱) پہلے دھواں (۲)پھر دجال (۳)پھر عیسیٰ علیہ السلام کا نزول(۴)پھر  یا جوج ما جوج  کا خروج (۵)پھر یہ جانور(۶)پھر سورج کا پچھم سے نکلنا۔خیال رہے کہ امام مہدی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں ظاہر ہوجائیں گے،بعض لوگوں نے سمجھا ہے کہ آفتاب کا مغرب سے نکلنا پہلے ہے نزول عیسیٰ علیہ السلام بعد میں مگر درست نہیں کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں کفار کا ایمان قبول ہوگا اور طلوع آفتاب کے بعد ایمان قبول نہ ہوگا۔ (مرقات)

۵؎ گزشتہ زمانوں میں بعض جگہ ز مینیں دھنسی ہیں مگر یہ دھنسنا قریب قیامت ہوں گے بڑے علاقہ میں اور بڑے خطرناک جیسے زلزلے عام طور پر آتے رہتے ہیں مگر زلزلہ قیامت خدا کی پناہ"اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیۡءٌ عَظِیۡمٌ" ۔(از مرقات)

۶؎ اس موقع پر دو آگ نکلیں گی: ایک یمن سے،دوسری حجاز سے،آخر میں یہ دونوں جمع ہوجائیں گی لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جن میں حجاز سے آگ نکلنے کا ذکر ہے۔خیال رہے کہ یہ آگ ان مذکورہ علامات کے بعد ہوگی ان علامات سے پہلے جن کے متصل صور کا نفخہ ہے لہذا یہ حدیث اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں آگ کو پہلی علامت فرمایا گیا ہے کہ یہ آگ ان علامات میں پہلی ہے۔

۷؎  قیامت زمین شام یا زمین فلسطین میں قائم ہوگی یہ آگ تمام کو وہاں پہنچادے گی،یہ قدرت الٰہی ہوگی کہ ساری مخلوق زمین شام میں جمع ہوجاوے گی۔

۸؎  عدن ملک یمن کا مشہور شہر ہے وہ اس کا دارالخلافہ ہے۔یہ عبارت پچھلی عبارت کی شرح ہے کہ وہاں یمن تھا یہاں عدن ہے۔

۹؎  یعنی اس روایت میں دسویں علامت بجائے آگ کے ہوا فرمائی گئی ہے مگر ہوسکتا ہے کہ اس آگ کے ساتھ آندھی بھی ہو،یہ آندھی کفار کو سمندر میں پھینک دے کہ کفار سمندر سے قیامت میں اٹھیں۔خیال رہے کہ وہ آگ مؤمنوں کے لیے عذاب نہیں بلکہ ڈراوا ہوگی جس سے مسلمان ملک شام میں پہنچ جاویں۔واﷲ و رسولہ اعلم!(مرقات)
Flag Counter