Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
307 - 4047
حدیث نمبر 307
روایت ہے حضرت جابر ابن عبداللہ سے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے برسوں میں اس برس جس میں آپ کی وفات ہوئی ٹڈی گم ہوگئی تو آپ اس سے سخت غمگین ہوئے ۱؎  تو آپ نے ایک سوار یمن کی طرف اور ایک سوار عراق کی طرف اور ایک سوار شام کی طرف بھیجا ٹڈی کے متعلق سوال فرماتے تھے کہ کیا کچھ ٹڈیاں دیکھی گئیں تو آپ کے پاس وہ سوار جو یمن گیا تھا مٹھی بھر ٹڈیاں لایا اور آپ کے سامنے بکھیر دیں جب انہیں دیکھا تو حضرت عمر نے تکبیر کہی۲؎  اور فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ اللہ عزوجل نے ایک ہزار امتیں پیدا کیں۳؎ جن میں سے چھ سو دریا میں ہیں اور چار سو خشکی میں ۴؎  اور سب سے پہلے ہلاکت میں ٹڈی ہے،جب ٹڈی ہلاک ہوجاوے گی تو دوسری امتیں لگاتار ہلاک ہوں گی جیسے لڑی کا دھاگہ ۵؎ (بیقیل شعب الایمان)
شرح
۱؎  آپ نے سمجھا کہ ٹڈی دنیا سے ختم ہوگئی اور یہ ختم ہونا دوسری مخلوق کے ختم ہوجانے کی علامت ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے۔یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خوف الٰہی کی انتہا ہے ورنہ آپ کو معلوم تھا کہ ابھی مسلمان بلکہ صحابہ کرام زندہ ہیں،قرآن باقی ہے دجال وغیرہ نہیں ظاہر ہوئے ابھی قیامت کیسی،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پانچ سو سال بعد قیامت آوے گی،یہ ایسا ہی ہے جیسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر بادل دیکھ کر خوف کے آثار نمودار ہوجاتے تھے۔

۲؎  یعنی آپ نے نعرہ تکبیر بلند فرمایا خوشی سے کہ الحمدﷲ ابھی امان ہے۔ معلوم ہوا کہ ٹڈی یمن و برکت والا جانور ہے،ہاں کبھی عذاب الٰہی بن کر بھی آتا ہے جیسے پانی برکت والی چیز ہے مگر اس کا سیلاب عذاب ہے ہر چیز میں رحمت عذاب کی جہتیں ہیں۔معلوم ہوا کہ خوشی میں نعرہ تکبیر لگانا سنت صحابہ ہے اسے منع قرار دینا جہالت ہے۔

۳؎  اصولی امتیں ایک ہزار ہیں،فروعی امتیں اٹھارہ ہزار جیسے گھوڑا ایک مخلوق ہے خچر اس میں داخل،سانپ ایک مخلوق ہے اس کی قسمیں اسی ایک میں داخل لہذا روایات میں تعارض نہیں بلکہ امتیں تو لاکھوں قسم کی ہیں اٹھارہ ہزار عالم ہیں یا جاندار اصولی مخلوق ایک ہزار ہے باقی مخلوق بہت زیادہ۔

۴؎ خشکی کا ہر جانور سمندر میں موجود ہے جیسے دریائی انسان،دریائی سؤر،دریائی شیر،دریائی گھوڑا،گائے۔میں نے دریائی بھینس دیکھی ہے مگر دریائی ہر جانور خشکی میں نہیں۔چنانچہ خشکی میں مچھلی،مگرمچھ،گھڑیال وغیرہ نہیں لہذا دریائی مخلوق زیادہ ہے۔

۵؎  کہ جیسے تسبیح کا دھاگہ ٹوٹنے پر دانے لگاتار آگے پیچھے گرتے ہیں ایسے ہی ان قوموں کی موت مسلسل واقع ہوگی۔

۱؎  آپ نے سمجھا کہ ٹڈی دنیا سے ختم ہوگئی اور یہ ختم ہونا دوسری مخلوق کے ختم ہوجانے کی علامت ہے۔معلوم ہوتا ہے کہ قیامت قریب آگئی ہے۔یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خوف الٰہی کی انتہا ہے ورنہ آپ کو معلوم تھا کہ ابھی مسلمان بلکہ صحابہ کرام زندہ ہیں،قرآن باقی ہے دجال وغیرہ نہیں ظاہر ہوئے ابھی قیامت کیسی،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات سے پانچ سو سال بعد قیامت آوے گی،یہ ایسا ہی ہے جیسے حضور صلی اللہ علیہ و سلم پر بادل دیکھ کر خوف کے آثار نمودار ہوجاتے تھے۔

۲؎  یعنی آپ نے نعرہ تکبیر بلند فرمایا خوشی سے کہ الحمدﷲ ابھی امان ہے۔ معلوم ہوا کہ ٹڈی یمن و برکت والا جانور ہے،ہاں کبھی عذاب الٰہی بن کر بھی آتا ہے جیسے پانی برکت والی چیز ہے مگر اس کا سیلاب عذاب ہے ہر چیز میں رحمت عذاب کی جہتیں ہیں۔معلوم ہوا کہ خوشی میں نعرہ تکبیر لگانا سنت صحابہ ہے اسے منع قرار دینا جہالت ہے۔

۳؎  اصولی امتیں ایک ہزار ہیں،فروعی امتیں اٹھارہ ہزار جیسے گھوڑا ایک مخلوق ہے خچر اس میں داخل،سانپ ایک مخلوق ہے اس کی قسمیں اسی ایک میں داخل لہذا روایات میں تعارض نہیں بلکہ امتیں تو لاکھوں قسم کی ہیں اٹھارہ ہزار عالم ہیں یا جاندار اصولی مخلوق ایک ہزار ہے باقی مخلوق بہت زیادہ۔

۴؎ خشکی کا ہر جانور سمندر میں موجود ہے جیسے دریائی انسان،دریائی سؤر،دریائی شیر،دریائی گھوڑا،گائے۔میں نے دریائی بھینس دیکھی ہے مگر دریائی ہر جانور خشکی میں نہیں۔چنانچہ خشکی میں مچھلی،مگرمچھ،گھڑیال وغیرہ نہیں لہذا دریائی مخلوق زیادہ ہے۔

۵؎  کہ جیسے تسبیح کا دھاگہ ٹوٹنے پر دانے لگاتار آگے پیچھے گرتے ہیں ایسے ہی ان قوموں کی موت مسلسل واقع ہوگی۔
Flag Counter