۱؎ اس میں خطاب حضرات صحابہ سے نہیں بلکہ عام مسلمانوں سے ہے کیونکہ یہ واقعہ حضرات صحابہ کے زمانہ میں نہیں بلکہ قریب قیامت ہے اگرچہ اس وقت خضر علیہ السلام موجود ہوں گے،یہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے صحابی نہیں،نیز بعض جنات صحابہ ہوں گے مگر وہ زمانہ صحابہ کرام کا زمانہ نہیں ہوگا لہذا خطاب عام ہے۔
۲؎ یعنی اسلام کا عظیم الشان اور جرار لشکر جو بہت سے جھنڈوں کے تلے ہوگا۔غالبًا یہ لشکر جرار حارث اور منصور کا ہوگا جن کا ذکر پہلے ہوچکا۔
۳؎ یعنی اس لشکر میں امام مہدی بذات خود سپاہیانہ شان سے ہوں گے۔آپ اس وقت خلیفہ نہ بنے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ اس لشکر پر امام مہدی کا ہاتھ ہوگا ان کی نصرت ہوگی لہذا یہ حدیث اس فرمان عالی کے خلاف نہیں کہ حضرات امام مہدی کا ظہور حرمین شریفین کے درمیان ہوگا کہ وہ وقت آپ کی خلافت کے ظہور کا ہے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سیاہ رنگ ماتمی نہیں جو کہ روافض کا خیال ہے،فتح مکہ کے دن حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا عمامہ سیاہ تھا،ان جھنڈوں کا رنگ سیاہ ہی ہوگا۔