| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن مسعود سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ دنیا ختم نہ ہوگی حتی کہ عرب کا بادشاہ ایک شخص بنے ۱؎ میرے گھر والوں میں سے جس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا ۲؎ (ترمذی،ابوداؤد)اس کی ایک روایت میں ہے کہ فرمایا اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہا ہوتا تو اللہ اس دن کو دراز فرمادیتا۳؎ حتی کہ اس دن میں ایک شخص بھیجتا جو مجھ سے یا میرے گھر والوں سے ہے اس کا نام میرے نام کے موافق اور اس کے باپ کا نام میرے باپ کے نام کے موافق ہوگا ۴؎ وہ آسمان و زمین کو انصاف و عدل سے بھردے گا جیسے وہ ظلم و زیادتیوں سے بھری تھی ۵؎
شرح
۱؎ یہ صاحب یعنی امام مہدی ساری دنیا یعنی عرب و عجم کے بادشاہ ہوں گے جیسا کہ اگلی حدیثوں میں آرہا ہے،مگر چونکہ ہر مسلمان دراصل عربی ہے کہ مسلمانوں کے جسم عجمی ہوسکتے ہیں مگر روح سب کی عربی ہے اس لیے العرب فرمایا ہم نے عرض کیا ہے۔شعر جسم ہندی ہے میرا جان ہے میری مدنی یا خدا دور ہو کس طرح یہ بعد بدنی یا یہ مطلب ہے کہ اہل عرب ان کا مقابلہ نہ کریں گے عجمی لوگ اولًا کچھ مخالفت کریں گے پھر سب ان کی اطاعت کرلیں گے،یا عرب فرمایا اور عرب و عجم دونوں مراد لیے جیسے "تَقِیۡکُمُ الْحَرَّ"فرمایا مگر مراد گرمی سردی دونوں ہیں،ایسے ہی یہاں ۔ (مرقات) ۲؎ ان کا نام محمد ہوگا،لقب مہدی۔بعض جاہل کہتے ہیں کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ہی ہوں گے جو اس شکل میں تشریف لائیں گے،یہ عقیدہ کفر ہے۔یہاں صاف ارشاد ہے کہ وہ میرے اہل بیت یعنی اولاد فاطمہ زہرا سے ہوں گے ہاں حسنی سید ہوں گے۔ ۳؎ یہ بطور مثال ارشاد فرمایا گیا یعنی امام مہدی کی تشریف آوری کا فیصلہ ہوچکا ہے وہ یقینًا دنیا میں آئیں گے۔فرض کرلو کہ اگر دنیا کی زندگی ختم ہوچکی ہوتی صرف ایک دن باقی رہ گیا ہوتا تب بھی وہ ضرور تشریف لاتے کہ وہ دن ہی دراز ہوجاتا۔ ۴؎ یعنی ان کا نام محمد ابن عبداللہ ہوگا۔اس حدیث سے ان روافض کا رد ہوگیا جو کہتے ہیں کہ امام مہدی پیدا ہوچکے ہیں،ان کا نام محمد ابن حسن عسکری ہے یہ غلط ہے وہ پیدا ہوں گے اور محمد ابن عبداللہ نام ہوگا۔ ۵؎ یعنی ان سے پہلے دنیا میں بہت ظلم و ستم پھیل چکا ہوگا،آپ عدل و انصاف کریں گے۔قسط سے مراد ہر حق والے کواس کا حق دے دینا اور عدل سے مراد شریعت کے احکام جاری کرنا۔(مرقات)