| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ جب غنیمت کو اپنی دولت ۱؎ اور امانت کو غنیمت اور زکوۃ کو ٹیکس بنالیا جاوے ۲؎ اور غیر دین کے لیے علم حاصل کیا جاوے ۳؎ اور آدمی اپنی بیوی کی اطاعت ماں کی نافرمانی کرے اور اپنے دوست کو قریب باپ کو دور کرے ۴؎ اور مسجدوں میں آوازیں اونچی ہوں ۵؎ اور قبیلہ کا بدکار قوم کی سرداری کرے اور قوم کا ذمہ دار ان کا کمینہ ہو اور آدمی کی تعظیم کی جاوے اس کی شرارت کے خوف سے ۶؎ او ر رنڈیاں باجے ظاہر ہو جاویں اور شرابیں پی جاویں ۷؎ اور اس کے پچھلے اگلوں پر لعنت کریں اس وقت تم سرخ ہوا،زلزلہ،دھنسنا اور صورتیں بدلنا پتھر برسنے اور ان نشانیوں کا انتظار کرنا جو لگاتار ہوں گی جیسے ہار جس کا دھاگہ توڑ دیا جاوے تو لگاتار کرکے ۸؎ (ترمذی)
شرح
۱؎ یعنی اس زمانہ سے متصل ہی قیامت ہوگی۔اس جگہ مشکوۃ شریف میں خالی جگہ چھوڑی ہے یعنی صاحب مشکوۃ کو اس حدیث کا مخرج و ماخذ معلوم نہیں ہوا مگر یہ حدیث ابوداؤد اور حاکم نے روایت فرمائی۔اسلام میں جہاد میں مال غنیمت غازیوں میں تقسیم ہوتا ہے گویا غنیمت غازیوں کا حصہ ہوتا ہے مگر قریب قیامت غنیمت کو مالدار آپس میں تقسیم کرلیا کریں گے،غریب غازیوں کو اس سے محروم کردیا کریں گے اسے اپنی دولت سمجھیں گے۔ ۲؎ یعنی لوگ امانت کا مال اس طرح ہضم کر جاویں جیسے مال غنیمت اور لوگ زکوۃ دیں تو مگر عبادت سمجھ کر نہیں بلکہ ٹیکس سمجھ کر بے دلی بلکہ بددلی سے۔ ۳؎ یعنی مسلمان دینی علم نہ پڑھیں دنیاوی علوم پڑھیں یا دینی طلباء دینی علم پڑھیں مگر تبلیغ دین کے لیے نہیں بلکہ دنیا کمانے کے لیے جیسے آج مولوی عالم مولوی فاضل کے کورس میں فقہ تفسیر و حدیث کی ایک آدھ کتاب داخل ہے تو امتحان دینے والے یہ کتابیں پڑھ تو لیتے ہیں مگر صرف امتحان میں پاس ہو کر نوکری حاصل کرنے کے لیے،بعض طلباء صرف وعظ گوئی کے لیے دینی کتابیں پڑھتے ہیں۔ ۴؎ یعنی بیوی کے کہنے میں آکر ماں سے دو ر رہے،اس کی نافرمانی کرے نیک باپ سے نفرت اور فاسق دوستوں سے محبت کرے۔ غرضکہ بیوی اور دوستوں کی محبت میں ماں باپ کو ستائے یہ بات آج عام ہورہی ہے۔ ۵؎ یعنی مسجدوں میں دنیاوی باتوں کا شور،لڑائیاں جھگڑے ہونے لگیں،نعت خوانی،ذکر اللہ کی مجلسیں،میلاد شریف ذکر کے حلقے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ ہی میں بھی مسجدوں میں ہوتے تھے بعد نماز بلند آواز سے ذکر ہوتا تھا،مسجد حرام میں بلند آواز سے ذکر کرتے ہوئے طواف ہو تا تھا،حضرت حسان مسجد نبوی میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت پڑھتے تھے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں اپنا میلاد خود ارشاد فرمایا ہے،لوگ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وعظ پر مسجد میں نعرہ تکبیر لگاتے تھے لہذا یہ آوازیں یہاں مراد نہیں۔ ۶؎ یہ تینوں باتیں آج دیکھی جارہی ہیں فاسق و فاجر سردار ہیں،شریر لوگوں سے لوگ ڈرتے ہیں،ان کے سامنے حق بات نہیں کہہ سکتے۔ ۷؎ ان چیزوں کا رواج تو آنکھوں دیکھا جارہا ہے۔عرب کے عام علاقوں میں شراب کھانے کا جز بن چکی ہے،ریڈیو کے ذریعہ ہر گھر رنڈی خانہ بنا ہوا ہے ہر درو دیوار سے گانے کی آواز یں آرہی ہیں،یہ کل سولہ چیزیں ہوئیں۔ ۸؎ یعنی جب مسلمانوں میں مذکور ہ سولہ عیوب جمع ہوجائیں تو ان پر یہ مذکورہ پانچ دنیاوی عذاب یکے بعد دیگرے ایسے مسلسل آئیں گے جیسے تسبیح کا دھاگہ ٹوٹ جانے پر اس کے دانے مسلسل اوپر تلے گرتے ہیں۔خیال رہے کہ مسلمانوں میں چودہ عیوب پیدا ہوچکے ہیں جن میں سے بعض عیب وہ ہیں جو سو اء مسلمانوں کے کسی قوم میں نہیں جیسے مسجد میں دنیاوی باتیں کرکے شور مچانا،یا بزرگوں اور سلف صالحین کو کافر و مشرک کہنا انہیں گالیاں دینا،عیسائی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خچر کے کھر کے نعل کا بڑا ہی ادب و احترام کرتے ہیں مگر مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تبرکات کو خود ہی مٹاتے ہیں،ساری قومیں اپنے بزرگوں کے دوستوں بیویوں کا بڑا احترام کرتی ہیں حتی کہ ہندو ہنومان کا ادب کرتے ہیں جو رام چندر کا ساتھی تھا،مصیبت کا مددگار تھا مگر مسلمان وہ قوم ہے جو اپنے نبی کی بیویوں دوستوں پر تبرا کرنا عبادت جانتی ہے۔ابن عساکر نے حضرت جابر سے مرفوعًا روایت کی کہ حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ ابوبکر عمر کی محبت ایمان ہے ان سے بغض کفر ہے،جو میرے صحابہ کو برا کہے اس پر اللہ کی لعنت ہے اور جو ان کی عزت کی حفاظت کرے میں اس کی حفاظت کروں گا۔(مرقات)اور اب مذکو ر ہ عذاب آنے شروع ہوگئے ہیں ہر جگہ مسلمان زمینی اور آسمانی مصیبتوں میں گرفتار ہے۔