| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن حوالہ سے ۱؎ فرماتے ہیں ہم کو جہاد کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پیدل بھیجا ۲؎ تو ہم واپس ہوئے کہ ہم نے کوئی غنیمت حاصل نہ کی ۳؎ اور حضور نے ہمارے چہروں میں مشقت محسوس کی ۴؎ تو ہم میں کھڑے ہوئے پھر فرمایا الٰہی ا نہیں میرے حوالہ نہ کر کہ میں ان سے دور ہوجاؤں گا ۵؎ اور انہیں ان کے نفسوں کے حوالہ نہ کریہ ان سے عاجز ہوجائیں گے ۶؎ اور نہ انہیں لوگوں کے سپرد کر ورنہ وہ ان پر دوسروں کو ترجیح دیں گے ۷؎ پھر حضور نے اپنا ہاتھ میرے سر پر رکھا پھر فرمایا اے ابن حوالہ جب تم دیکھو کہ خلافت زمین مقدس میں اتر گئی ۸؎ تو زلزلے اور رنج و غم اور بڑے بڑے کام قریب ہو جائیں گے ۹؎ اور اس دن قیامت زیادہ قریب ہوگی بمقابلہ میرے اس ہاتھ کے تمہارے سر سے ۱۰؎
شرح
۱؎ حوالہ ح اور واؤ کے فتح سے ،آپ عبداللہ ابن حوالہ صحابی ہیں،قبیلہ بنی ازد سے ہیں،شام میں قیام رہا ،آپ سے صرف تین حدیثیں مروی ہیں جن میں سے ایک یہ ہے۔(اشعہ) ۲؎ یعنی ہم کو جہاد کے لیے پیدل بھیجا کیونکہ اس وقت سواریاں موجود نہ تھیں بہت تنگی اور عسرت کا زمانہ تھا۔یہ سریہ تھا جس میں حضور خود تشریف نہ لے گئے تھے۔ ۳؎ یعنی ہم لوگ نہ تو شہید و زخمی ہوئے نہ دشمن پر فتح حاصل کرسکے،امن و امان سے واپس لوٹے مگر کامیاب نہ لوٹے۔ ۴؎ یہاں جہد سے مراد بھوک،سفر کی تکالیف اور ساتھ میں ناکام ہونے کی ندامت و شرمندگی سب ہی مراد ہیں۔اگر انسان کامیاب لوٹے تو سفرو بھوک کی مشقتیں بھول جاتا ہے،ناکام لوٹے تو مشقتیں دو گنا ہوجاتی ہیں۔ ۵؎ یعنی اگر تو انہیں مجھ پر چھوڑ دے اور تو میری مدد نہ کرے بالکل میرے سپرد کردے تو میں انہیں تو کیا اپنے کو بھی نہیں سنبھال سکتا کیونکہ الانسان خلق ضعیفا،میں بندہ ضعیف ہوں اور اگر تو میری مدد کرے پھر انہیں میرے سپرد کردے تو یہ تو کیا تیری مدد سے دونوں عالم کو سنبھال لوں گا۔یوسف علیہ السلام نے قحط کے زمانہ میں رب تعالٰی کی مدد سے تمام جہان کو پال لیا،حضور فرماتے ہیں اللہ المعطی وانا القاسم۔قیامت میں سب کی شفاعت حضور کریں گے آج حضور سب کے سلام عرض معروض سن رہے ہیں ہم جیسے کروڑوں حضور کے نام پر پل رہے ہیں مگر یہ سب کچھ اللہ تعالٰی کی مدد سے ہے لہذا یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محض مجبوری کی نہیں۔مشین اگر پاور کے تار سے جڑ جاوے تو سب کچھ ہے اس سے الگ ہو کر کچھ نہیں۔ ۶؎ دیکھو آج غیر مقلد آئمہ دین کو،رافضی خلفاء راشدین بلکہ تمام صحابہ کرام کو گالیاں دیتے ہیں،دیوبندی تمام سلف صالحین کو مشرک و کافر بتاتے ہیں۔اس فرمان عالی کی تائید اس آیت کریمہ سے ہوتی ہے"قُلۡ لَّاۤ اَمْلِکُ لِنَفْسِیۡ نَفْعًا وَّلَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللہُ"آیت میں الا ماشاءاﷲ نے مسئلہ واضح کردیا۔ ۷؎ ہمارے اعمال کا بھی یہ ہی حال ہے ر ب کرم کرے تو ہم نیک اعمال کریں گے،اگر وہ ہم کو چھوڑ دے تو ہم بداعمالیوں بد عقیدگیوں کے گڑھے میں گرجائیں۔ڈھیلہ اوپر جائے گا دوسرے کے پھینکنے سے نیچے گرے گا اپنی طاقت سے۔ ۸؎ اس طرح کہ ان کا حق مار کر اپنے آپ لیں گے یا دوسرے نااہلوں کو دیں گے انہیں محروم کردیں گے۔ ۹؎ یعنی جب بیت المقدس کو مسلمان فتح کرلیں گے اور اسے دار الخلافہ بنا لیں گے کہ بادشاہ اسلام وہاں ہی رہے ہیں یہ قریب قیامت ہوگا،اب تک بیت المقدس مسلمانوں کے پاس رہا مگر دارالخلافہ عمان رہا،اب اس پر یہود نے قبضہ کرلیا ہے ان شاءاللہ عنقریب مسلمان فتح کریں گے۔ ۱۰؎ بلابل جمع ہے بلبلۃ کی بمعنی رنج و غم اور وسوسے یعنی اس زمانہ سے ان کو چین نہ رہے گا۔بڑے کاموں سے مراد ہیں قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں۔