۱؎ یا اس طرح جلد گزرے گا کہ زمانہ اور وقت میں برکت نہ رہے گی،انسان ایک کام بھی نہ کرسکے گا کہ دن ختم ہو جاوے گا یا اس طرح کہ لوگ مصیبتوں آفتوں میں ایسے مبتلا ہوجائیں گے کہ انہیں وقت محسوس نہ ہوگا۔مصیبت کا زمانہ اگر احساس کیا جاوے تو دراز محسوس ہوتا ہے،اگر احساس ہی نہ رہے ہوش اڑ جاوے تو وقت محسوس نہیں ہوتا یا اس زمانہ میں لوگوں میں عیش و آرام بہت زیادہ ہوگا اور عیش و آرام کا زمانہ محسوس نہیں ہوتا ۔
۲؎ اس کی شرح پہلے گزرچکی۔ضرمۃ ض کے فتحہ سے ر کے کسرہ سے بمعنی آگ سلگانا جو جلانے سے پہلے ہوتا ہے یہ فرمان عالی بطور مثال سمجھانے کے لیے لہذا حدیث واضح ہے۔یہاں ساعت سے مراد پل یا سیکنڈ یا گھڑی نہیں بلکہ کم از کم ایک گھنٹہ مراد ہے۔