| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت جابر سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ آخر زمانہ میں ایک خلیفہ ہوگا جو مال بانٹے گا اور اسے گنے گا نہیں ۱؎ اور ایک روایت میں ہے فرمایا میری امت کے آخر میں ایک خلیفہ ہوگا جو لپ بھر بھر کر مال دے گا اور اسے گنے گا نہیں ۲؎ (مسلم)
شرح
۱؎ یہ بادشاہ غالبًا امام مہدی ہوں گے جو اور خوبیوں کے ساتھ نہایت ہی سخی ہوں گے۔ ۲؎ اس روایت اور پہلی روایت میں فرق صرف چند لفظوں کا ہے مطلب ایک ہی ہے یعنی اس خلیفہ کے زمانہ میں فتوحات،غنیمتیں دوسرے مال بہت کثرت سے ہوں گے،بادشاہ نہایت سخی ہوگا اس لیے تقسیم کی کثرت کا یہ حال ہوگا کہ لوگوں کو بادشاہ مال دے گا اور گنے گا نہیں،بے گنتی دے گا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ لایعد کے معنی یہ ہیں کہ وہ بادشاہ کل کے لیے مال اٹھا کر نہ رکھے۔