| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے سنا کہ حضور گفتگو فرمارہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا عرض کیا قیامت کب ہے ۱؎ فرمایا جب امانت ضائع کردی جاوے تو قیامت کا انتظار کرو۲؎ اس نے عرض کیا کہ ضائع ہونا کیسے ہوگا فرمایا جب کام نااہلوں کے سپرد کردیا جاوے تو قیامت کا انتظار کرو۳؎ (بخاری)
شرح
۱؎ قیامت کی تاریخ مہینہ دن بتائیے۔معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کا عقیدہ یہ بھی تھا کہ اللہ تعالٰی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو علم غیب کلی بخشا اور یہ بھی عقیدہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو قیامت کا علم دیا گیا اس لیے تو آپ سے یہ سوال کرتے تھے، حضور انور نے بھی انہیں اس سوال پر کافر یا مشرک نہ کہا بلکہ قیامت کی علامات بیان فرمادیں اور علامتیں وہ بیان کرتا ہے جسے ہر شے کا پتہ ہو۔ ۲؎ یہاں امانت سے مراد امامت حکومت سلطنت وغیرہ ہے جو رب تعالٰی کے امانتیں ہیں جو اس نے چند روز کے لیے بندوں کو سپرد فرمائی ہیں جیسا کہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ ۳؎ اس طرح کہ حکومت فاسقوں یا عورتوں کو ملے،قاضی فقیر جاہل لوگ بنیں اور بے وقوف لوگ بادشاہ بنیں۔ توسید بنا ہے وسادۃ سے اس کے معنی ہیں تکیہ کسی کے نیچے رکھنا یعنی نااہلوں کے سر تلے ان امانتوں کا تکیہ رکھ دیا جائے۔