Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
282 - 4047
باب اشراط  الساعۃ

قیامت کی علامتوں کا بیان  ۱؎
الفصل الاول

پہلی فصل
۱؎  اشراط جمع ہے شرط کی،شرط شین کی فتحہ ر کے سکون سے بمعنی موقوف علیہ جیسے نماز کے لیے وضو۔اس کی جمع شروط یا شرط ہے مگر شین کے فتح سے۔اس کے بہت معنی ہیں:  علامات،ابتداء،حقیر مال،چھوٹی چیز،اس سے ہے شرط بمعنی سپاہی،شاہی باڈی گارڈ جو بادشاہ کے آگے چلے اور بادشاہ کی آمد کی علامت ہو۔اس کی جمع اشراط ہے وہ ہی یہاں مراد ہے۔خیال رہے کہ اس باب میں سواء خروج امام مہدی کے باقی تمام چھوٹی علامتیں ہیں،بڑی علامات قیامت اگلے باب میں آئیں گی۔ساعت قیامت کا ایک نام ہے،چونکہ اس کی آمد آنًا فانًا ہوگی،یا بعض مقبول بندوں کو یہ گھڑی کی طرح محسوس ہوگی اس لیے اسے ساعت یعنی گھڑی بھر کی چیز کہا جاتا ہے،اس کا نام محشر،قیامت،یوم انزاع،قارعۃ،واہیہ،یوم الحساب،واقعہ،خافضہ،رافعہ وغیرہ ہیں،ہر نام کی الگ وجہ ہے،دیکھو ہماری تفسیر۔
حدیث نمبر 281
روایت ہے حضرت انس سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت کی نشانیوں سے یہ ہے کہ علم اٹھالیا جاوے گا اور جہالت بڑھ جاوے گی  ۱؎  اور زنا شراب خواری بڑھ جاوے گی ۲؎  اور مرد کم ہوجاویں گے اور عورتیں زیادہ ہوجائیں گی ۳؎ حتی کہ پچاس عورتیں ایک مرد منتظم ہوگا۴؎  ایک روایت میں ہے کہ علم گھٹ جاوے گا اور جہالت ظاہر ہو جاوے گی ۔(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ علم سے مراد علم دین ہے۔جہل سے مراد دین علم سے غفلت آج یہ علامت شروع ہوچکی ہے دنیاوی علوم بہت ترقی پر ہیں مگر علوم تفسیر،حدیث،فقہ بہت کم رہ گئے،علماء اٹھتے جارہے ہیں،ان کے جانشین پیدا نہیں ہوتے،مسلمانوں نے علم دین سیکھنا قریبًا چھوڑ دیا،بہت سے علماء واعظ بن کر اپنا علم کھو بیٹھے،یہ سب کچھ اس پیش گوئی کا ظہور ہے۔

۲؎  زنا کی زیادتی کے اسباب عورتوں کی بے پردگی،اسکولوں کالجوں لڑکوں لڑکیوں کی مخلوط تعلیم،سنیما وغیرہ کی بے حیائیاں گانے، ناچنے کی زیادتیاں یہ سب آج موجود ہیں،ان وجوہ سے زنا بڑھ رہا ہے اور ابھی اور زیادہ بڑھے گا۔ہم نے عرب ممالک کے بعض علاقوں میں دیکھا کہ بغیر شراب کوئی کھانا نہیں ہوتا،ہوٹل میں کھانا مانگو تو شراب ساتھ آتی ہے۔

۳؎  اس طرح کہ لڑکیاں زیادہ پیدا ہوں گی لڑکے کم،پھر مرد جنگوں وغیرہ میں زیادہ مارے جائیں گے اپنے بیوی بچے چھوڑ جائیں گے ان وجوہ سے عورتوں کی بہتات ہوگی۔

۴؎  اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایک خاوند کی پچاس بیویاں ہوں گی کہ یہ تو حرام ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ایک خاندان میں عورتیں بیٹیاں پچاس ہوں گی   ماں،دادی،خالہ،پھوپھی وغیرہ اور ان کا منتظم ایک مرد ہوگا۔دوسری احادیث میں ہے کہ قریب قیامت سنگِ اسود اور مقام ابراہیم اٹھالیا جاوے گا،قیامت کے قریب دنیا میں اللہ اللہ کہنے والا نہ ہوگا۔
حدیث نمبر 282
روایت ہے حضرت جابر ابن سمرہ سے فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ قیامت سے پہلے جھوٹے ہوں گے تم ان سے پرہیز کرنا ۱؎ (مسلم)
شرح
۱؎  جھوٹوں سے مراد جھوٹی حدیثیں گڑھنے والے،یا جھوٹے مسئلے بیان کرنے والے،یا جھوٹے عقیدے ایجاد کرنے والے انہیں سلف صالحین کی طرف نسبت کرنے والے،یا جھوٹے دعویٰ نبوت کرنے والے ہیں۔یہ لفظ بہت عام ہے جھوٹے علماء،جھوٹے محدثین،جھوٹے عقیدوں والوں سے بچنا ایسا ہی ضروری ہے جیسے جھوٹے نبیوں سے بچنا لازم ہے جیسا کہ فاحذروھم سے معلوم ہوا۔
Flag Counter