روایت ہے حضرت شقیق سے ۱؎ وہ جناب حذیفہ سے راوی فرماتے ہیں کہ ہم حضرت عمر کے پاس تھے کہ آپ نے فرمایا تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی فتنہ کے متعلق حدیث کا حافظ کون ہے۲؎ میں نے عرض کیا میں حافظ ہوں جیسے حضور نے فرمایا ہے،فرمایا لاؤ تم بڑے بہادر ہو ۳؎ حضور نے کیسے فرمایا،میں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ مرد کا فتنہ اس کے گھر میں اس کے مال میں اور اس کی ذات میں اور اس کی اولاد میں اور اس کے پڑوسی میں ہے جسے روزے نماز،خیرات اچھائیوں کا حکم برائیوں سے روکنا مٹاتے رہتے ہیں۴؎ تو حضرت عمر نے فرمایا میں یہ ارادہ نہیں کر رہا ہوں میری مراد وہ فتنہ ہے جو سمندر کی موج کی طرح اٹھے گا ۵؎ فرمایا میں نے کہا آپ کو اس سے کیا تعلق اے امیر المؤمنین آپ کے اور اس کے درمیان ایک بند دروازہ ہے ۶؎ فرمایا تو دروازہ توڑا جاوے گا یا کھولا جاوے گا فرماتے ہیں میں نے کہا نہیں بلکہ توڑا جاوے گا۷؎ فرمایا یہ اس لائق ہے کہ پھر بند نہ کیا جاسکے ۸؎ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے جناب حذیفہ سے کہا کیا حضرت عمر جانتے تھے کہ دروازہ کون ہے فرمایا ہاں جیسے یہ جانتے تھے کہ کل سے پہلے رات ہے ۹؎ میں نے انہیں وہ حدیث سنائی جو معمہ نہیں ہے ۱۰؎ فرماتے ہیں کہ ہم کو اس سے ڈر لگا کہ حذیفہ سے پوچھیں کہ دروازہ کون ہے تو ہم نے مسروق سے کہا ان سے پوچھو انہوں نے پوچھا تو فرمایا عمر ہیں۔ (مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ آپ کانام شقیق ابن ابی سلمہ ہے،آپ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا مگر زیارت نہ کی،بہت صحابہ سے ملاقات ہوئی،حجاج ابن یوسف کے زمانہ میں وفات پائی اور حذیفہ ابن یمان مشہور صحابی ہیں،آپ نے حضرت عثمان غنی کی شہادت کے چالیس دن بعد مدائن میں وفات پائی،وہاں مدائن میں ہی آپ کی قبر شریف ہے۔(مرقات) ۲؎ یعنی احکام،اعمال،عقائد کی احادیث تو ہم سب کو یاد ہیں ہمارے عمل میں ہیں،جو فتنوں بلاؤں آفتوں کی پیش گوئی حضور نے کی ہے وہ کسے یاد ہیں۔ ۳؎ ظاہر یہ ہے کہ حضرت حذیفہ کو بہادر فرمانا ان کی تعریف و توصیف کے لیے ہے یعنی بڑے دلیر ہوکر تم نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے منافقین فتنہ گروں اور فتنوں کے متعلق پوچھ پوچھ کر بہت معلومات جمع کرلی تھیں،نیز تم حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے صاحب اسرار ہو تم نے وہ باتیں معلوم کرلیں ہیں جو ہم لوگوں کو معلوم نہیں بیان کرو۔بعض شارحین نے فرمایا کہ انہیں بہادر فرمانا ناراضی کے اظہار کے لیے مگر یہ غلط ہے۔حضرت حذیفہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سنائیں اور جناب عمر ناراض ہوں یہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ۴؎ یعنی انسان دن رات اپنے مال،اولاد،پڑوسیوں کی الجھنوں کی وجہ سے گناہ کرتا ہے،یہ چیزیں انسانوں کے لیے فتنہ ہیں"اَنَّمَاۤ اَمْوٰلُکُمْ وَ اَوْلٰدُکُمْ فِتْنَۃٌ"اور یہ مذکورہ نیکیاں ان گناہوں کو مٹاتی رہتی ہیں"اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ"۔ ۵؎ یعنی یہ فتنے تو شخصی وقتی فتنے ہیں بلکہ ایک طرح اللہ کی رحمت ہیں،میں تو اس عالمگیر فتنہ کے متعلق پوچھتا ہوں جو سمندر کی لہروں کی طرح دنیا بھر کو لے لے گا،کسی کے روکے نہ رکے گا جس سے مسلمانوں میں قتل عام ہوگا۔ ۶؎ یعنی آپ اس فتنہ سے خوف نہ کریں وہ آپ کو نہ پہنچے گا بلکہ آپ کے ہوتے ہوئے مسلمانوں کو بھی نہ پہنچے گا،آپ مسلمانوں کے لیے امان ہیں،آپ وہ بند دروازہ ہیں جس نے مسلمانوں سے فتنوں کو روک رکھا ہے۔ ۷؎ حضرت عمر سمجھ گئے وہ دروازہ جس کے ہٹتے ہی فتنوں کا سمندر موجیں مارنے لگے گا وہ میں ہی ہوں تو پوچھا کہ بتاؤ میری موت بستر پر ہوگی یا شہادت کی۔دروازے کھلنے سے مراد ہے طبعی موت اور توڑے جانے سے مراد ہے قتل کیا جانا،ایسے فصحاء بلغاء کے قربان۔ ۸؎ یہ فرمان عالی انتہائی فراست و دانائی پر مبنی ہے یعنی اگر دروازہ کھلے تو بند کیا جاسکتا ہے لیکن اگر توڑ دیا جاوے تو بند کیسے ہو۔میرا قتل اس کی علامت ہے کہ فتنے پھر بند نہ ہوں گے،آپ کی یہ فراست بالکل درست ثابت ہوئی۔ ۹؎ یعنی اے حذیفہ آپ سے حضرت عمر نے یہ نہ پوچھا کہ دروازہ کون ہے اور نہ آپ نے انہیں بتایا تو کیا حضرت عمر آپ کا مقصد سمجھ گئے،کیا انہیں پتہ لگ گیا کہ دروازہ کون ہے ہم تو کچھ نہ سمجھے ہم پر واضح فرمادیئے۔ ۱۰؎ یعنی یہ اشارۃً بات چیت تمہارے لیے معمہ ہے مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے لیے معمہ نہ تھی وہ مجتہد مطلق تھے مزاج شناس رسول۔اس سے معلوم ہوا کہ غیبی خبریں اشارۃً دی جاتی ہیں صراحۃً نہیں،نیز مجتہدین حدیث و قرآن کا منشا سمجھتے ہیں،لوگ قرآن دانی حدیث فہمی میں مجتہدین علماء کے محتاج ہیں یعنی حضرت عمر رضی اللہ نہ کی حیات شریف فتنوں کے آگے مضبوط بند دروازہ ہے،آپ کے زمانہ میں کسی بیدین فتنہ گر کو سر اٹھانے کی جرأت نہیں،آپ کی شہادت کے بعد فتنہ گر اٹھیں گے فتنے سر نکالیں گے۔