Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
279 - 4047
حدیث نمبر 279
روایت ہے صالح ابن درہم سے ۱؎  فرماتے ہیں کہ ہم حج کرنے جارہے تھے کہ ایک شخص ملا پس اس نے کہا کیا تم سے قریب کوئی بستی ہے جسے ابلہ کہا جاتا ہے۲؎ ہم بولے ہاں اس نے کہا تم سے کون اس کا ضامن بنتا ہے کہ مسجد عشار میں میرے لیے دو چار رکعتیں پڑھ دے اور کہہ دے کہ یہ نماز ابوہریرہ کی ہے۳؎  میں نے اپنے محبوب ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ اللہ تعالٰی قیامت کے دن مسجد عشار سے ایسے شہید اٹھائے گا کہ ان کے سواء شہداء بدر کے ساتھ کوئی نہ کھڑا ہوگا ۴؎(ابوداؤد)اور فرمایا کہ یہ مسجد نہر کے قریب ہے اور ہم ابوالدرداء کی حدیث ان فسطاط المسلمین یمن و شام کے ذکر والے باب میں بیان کریں گے ان شاءاللہ !
شرح
۱؎ صالح ابن درہم تابعی ہیں،قبیلہ باہلہ سے ہیں،آپ نے حضرت ابوہریرہ اور سمرہ ابن جندب سے روایات لیں،آپ نے شعبہ اور فسطان سے روایات لیں۔(اکمال،مرقات)

۲؎ ابلہ الف اور ب کے پیش لام کے شدسے،بصرہ کے پاس مشہور بستی ہے۔علماء کہتے ہیں کہ دنیا کے چار شہر زمین کی جنت ہیں: بصرہ کا ابلہ،دمشق کا غوطہ،سمر قند کا حفد اور بوان شہر کا شعب،یہ چاروں بستیاں بہت ہی سرسبز ہیں۔ہم نے دمشق کا غوطہ اور بصرہ کا ابلہ دیکھا ہے۔

۳؎  یعنی تم میں سے کوئی شخص مسجد عشار میں جو کہ ابلہ کی مشہور متبرک مسجد ہے دو چار رکعت نفل پڑھ کر مجھے اس لفظ سے ایصال ثواب کردے کہ الٰہی یہ نماز جو ہم نے پڑھی یہ ابوہریرہ کی طرف سے ہے اس کا ثوا ب انہیں ملے۔اس حدیث سے چند مسئلے معلوم ہوئے: ایک یہ کہ متبرک و مقدس مسجد میں نماز ادا کرنا دوسری نمازوں سے افضل ہے،مسجد نبوی کی ایک نیکی دوسری جگہ کی پچاس ہزار نیکیوں کے برابر ہے۔دوسرے یہ کہ نماز کا ثواب دوسرے کو بخش دینا درست ہے،ہاں کسی کی طرف سے نماز فرض نہیں پڑھی جاسکتی وہ تو خود ہی پڑھنا پڑے گی۔تیسرے یہ کہ کوئی نیکی کرکے کسی دوسرے کو اس طرح ثواب بخشنا کہ خدایا اس کا ثواب فلاں کو ملے بالکل جائز سنت صحابہ ہے لہذا فاتحہ مروجہ ختم شریف وغیرہ بالکل درست ہے،دیکھو حضرت ابوہریرہ ثواب بخشنے کے الفاظ بتارہے ہیں۔چوتھے یہ کہ اپنے سے بڑے کو ثواب بخشنا جائز ہے اگرچہ وہ کیسی ہی شان کا مالک ہو،دیکھو جناب ابوہریرہ صحابی ہیں اور تابعین کو اپنے لیے ایصال ثواب کا حکم دے رہے ہیں۔ یہ حدیث بہت سے احکام کا ماخذ ہے،نیز زندہ کو زندہ کا ثواب بخش دینا جائز ہے۔

۴؎  یعنی آخر زمانہ میں ایک عظیم الشان جہاد ہوگا،اس جہاد کے غازی اس مسجد میں جمع ہو کر میدان میں جا کر شہید ہوں گے وہ کل قیامت میں شہداء بدر کے ساتھ کھڑے ہوں گے لہذا اس مسجد میں نماز پڑھنا بہت ہی افضل ہے۔ معلوم ہوا کہ اگرچہ ساری مسجدیں اللہ کا گھر ہیں مگر جس مسجد میں یا جس شہر میں اللہ کے مقبول بندے رہ چکے ہوں یا اب رہتے ہوں یا آئندہ رہنے والے ہوں وہ دوسری مسجدوں سے افضل ہے۔اس کی نسبت کی وجہ سے دیکھو وہ غازی شہداء قریب قیامت اس مسجد میں جمع ہوں گے مگر وہاں نماز آج ہی سے افضل ہے۔جن مقامات پر حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم بھی رکھا ہے وہ مقام اللہ  کو محبوب ہے،حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سفیدہ زمین کا ادب کیا جہاں آئندہ مدینہ منورہ شہر آباد ہونے والا تھا۔
Flag Counter