| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت انس سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے انس لوگ مختلف شہر آباد کریں گے ان میں ایک شہر ہے جسے بصرہ کہا جاوے گا ۱؎ تو اگر تم وہاں سے گزرو اس میں جاؤ وہاں کی کھاری زمین سے اور وہاں کے مقام کلاء سے۲؎ اور وہاں کے باغات بازار اور وہاں کے امیروں کے دروازوں سے بچنا ۳؎ اور مقام ضراخی کو اختیار کرنا۴؎ کیونکہ وہاں زمین دھنسنا پتھر برسنا زلزلے ہوں گے ۵؎ اور ایسی قوم ہوگی جو رات گزاریں گے اور سویرا پائیں گے بندر سؤر ہو کر۔(رواہ)
شرح
۱؎ حضور انور کے زمانہ میں بصرہ شہر نہ تھا،اس کے شہر بن جانے کی اس حدیث میں خبر دی گئی۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق آج بصرہ بڑا شہر ہے۔۔ ۲؎ کلاء بصرہ کے آس پاس کی زمینوں میں سے ایک زمین کا نام ہے غالبًا وہاں سبزہ چارہ بہت ہوگا اس لیے اس علاقہ کو کلاء کہتے ہیں،چونکہ بصرہ اور اس کے آس پاس کے آباد علاقوں کی آب و ہوا بھی خراب ہے اور وہاں آفات بہت آنے والی ہیں اس لیے ان مقامات سے بچنے کا حکم دیا۔ ۳؎ بصرہ کے بازاروں میں جھوٹ فریب دھوکہ دہی زیادہ ہے امراء میں ظلم و تشدد بہت اس لیے ان جگہوں سے بچنے کا حکم دیا گیا۔ ۴؎ ضراخی بصرہ شہر بصرہ کے ایک علاقہ کا نام ہے وہ علاقہ پہاڑی ہے۔مطلب یہ ہے کہ وہاں جلوت سے بچنا خلوت اختیارکرنا،بن باس ہوجانا کہ اس میں امن ہوگی۔ ۵؎ یعنی بصرہ میں تین عذاب تو عام آئیں گے: ایک انسانوں،مکانات،عمارتوں میں زمین دھنس جانا،انہیں زمین نگل لے گی،دوسرے تیز ہوائیں چلنا جس سے لوگ ہلاک ہوجاویں یا غیبی پتھر برسنا یا زمین کا مدفون لاشوں کو نکال پھینکنا،تیسرے سخت زلزلے،قذف کے کئی معنی کیے گئے ہیں۔(مرقات)یہ واقعات قریب قیامت ہوں گے۔دوسری حدیث میں ہے کہ یہ مذکورہ عذاب قدریہ فرقے پر آئیں گے غالبًا اس زمانہ میں بصرےٰ میں قدریہ فرقہ بہت ہوگا۔خیال رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی تشریف آوری سے یہ مذکورہ عذاب عام لوگوں پر نہ آئیں گے،خاص لوگوں پر خاص حالات میں آئیں گے لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ"وَمَا کَانَ اللہ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنۡتَ فِیۡہِمْ"۔(از اشعہ)یہ وہاں کے خاص عذاب کا ذکر ہے کہ وہاں کی ایک قوم رات کو اچھی بھلی سوئے گی صبح کو اس طرح اٹھے گی کہ ان کے جوان تو بندر بن چکے ہوں گے اور بوڑھے سؤر۔یہ ہے مسخ یعنی صورتوں کی تبدیلی یہ بھی قریب قیامت قدر یہ فرقہ کی ہوگی۔یہاں بعض نسخوں میں سفید جگہ چھوٹی ہوئی ہے یعنی صاحب مشکوۃ کو اس کا حوالہ نہ ملا اور بعض نسخوں میں عبارت ہے رواہ ابوداؤد و من طریق لم یجزم بھا الراوی بل قال لا اعلمہ الا ذکرہ عن موسیٰ ابن انس عن انس بن مالك،اشعۃ اللمعات میں یہ عبارت اسی جگہ مذکور ہے۔