Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
277 - 4047
حدیث نمبر 277
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت کے لوگ ایک پست زمین میں اتریں گے ۱؎ جسے بصرہ کہیں گے۲؎  ایک نہر کے کنارے کے پاس جسے دجلہ کہا جاتا ہے۳؎  اس پر ایک پل ہوگا اس کے باشندے بہت ہوں گے۴؎  اور وہ مسلمانوں کے شہروں میں سے ہوگا اور جب آخری زمانہ ہوگا تو قبیلہ بنو قنطورا ۵؎ چوڑے منہ والے چھوٹی آنکھوں والے آئیں گے ۶؎ حتی کہ نہرکے کنارہ اتریں گے تو وہاں کے باشندے تین حصے ہوجاویں گے ایک فرقہ تو گایوں کی دم اور جنگل اختیار کرلیں گے۷؎ وہ ہلاک ہوجائیں گے اور ایک فرقہ اپنے لیے امان لے لے گا اور ہلاک ہوجائیں گے۸؎  اور ایک فرقہ اپنے بال بچوں کو اپنی پیٹھ کے پیچھے چھوڑے گا اور ان سے جنگ کرے گا یہ لوگ شہداء ہیں ۹؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ غائطہ پست زمین کو کہتے ہیں اس لیے پیشاب یا پاخانہ بیٹھنے کی جگہ کو غایت کہتے ہیں کہ اکثر وہ پست زمین ہوتی ہے،رب تعالٰی فرماتاہے:"اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الْغَآئِطِ"۔

۲؎ بصرہ در اصل بسرہ تھا سین سے جس کے معنی ہیں بہت راستوں والا،بصرہ عراق کا بڑا مشہور شہر ہے،بڑی بندرگاہ عراق کی بصرہ ہی میں ہے،یہاں بڑے اولیاء اللہ آرام فرما ہیں ہم نے زیارت کی ہے۔

۳؎ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہاں بصرہ سے مراد بغداد ہے کیونکہ دجلہ کے کنارے پر بغداد واقع ہے نہ کہ بصرہ۔بصرہ دریائے شطُّ العرب کے کنارے پر ہے لہذا یہاں بصرہ کے معنی لغوی مراد ہیں یعنی بہت سے راستوں والا شہر۔

۴؎ یعنی بغداد مسلمانوں کا بہت بڑا شہر ہوگا،مصر بڑے شہر کو کہتے ہیں،اس سے چھوٹا مدینہ،اس سے چھوٹا بلدہ،اس سے چھوٹا قریہ۔(اشعہ)مگر جب یہ قریہ کے ساتھ کوئی علامت لگادی جائے عظیم وغیرہ تو بڑے شہر کو بھی قریہ کہہ دیتے ہیں۔

۵؎  قنطورا ان ترکوں کے مورث اعلٰی کا نام ہے،بعض لوگوں نے کہا کہ قنطورا حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک لونڈی کا نام ہے جس کی اولاد سے وہ ترک ہوں گے مگر یہ درست نہیں کیونکہ وہ ترک یا فث ابن نوح علیہ السلام کی نسل سے ہیں اور یافث حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بہت پہلے ہوئے۔بعض شارحین نے کہا کہ ممکن ہے قنطورا لونڈی یافث کی اولاد سے ہو یا اس کا نکاح کسی اولاد یافث سے بھی،اس طرح یہ دونوں قول جمع ہوجائیں گے ان میں اختلاف نہ رہے گا۔(مرقات)

۶؎  یعنی بصرہ یا بغداد کے مسلمانوں سے جنگ کرنے یہ ترک آئیں گے جن کی شکلیں ایسی ہوں گی۔ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ وہ ترک یاجوج ماجوج کا ایک قبیلہ ہے۔

۷؎  یعنی بصرہ یا بغداد کے مسلمان اس وقت تین حصوں میں بٹ جائیں گے: ایک حصہ تو ان کفار ترک کے مقابلہ کی تاب نہ لاکر اپنے مال مویشی لےکر جنگل کی طرف بھاگے گا اور وہاں کا باشندہ بن جائے گا تاکہ آرام سے بقیہ زندگی گزاریں جہاد نہ کرنا پڑے،یہ لوگ بزدل ہوکر ذلیل و خوار ہو جائیں گے اور بری موت مریں گے۔ھلکوا سے یہ ہی مراد ہے ذلت کی موت مرنا۔

۸؎  یعنی مسلمانوں کا دوسرا فرقہ ان سے ڈر کر ان سے امان لے لے گا،ان کی رعایا بن جاوے گا۔بعض شارحین نے کہا کہ یہ واقعہ ہوچکا کہ مستعصم باللہ بادشاہ نے اپنے اور اپنے ماتحتوں کے لیے امان لے لی مگر یہ درست نہیں کہ مستعصم باللہ بغداد کا باشندہ تھا۔یہاں ذکر ہے بصرہ کا لہذا یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا اور وہ ترک کفار سے ہوں گے،یہ وہ واقعہ صفر    ۶۵۶؁ ہجری میں گزر چکا۔(مرقات)یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا۔

۹؎  یعنی مسلمانوں کا یہ تیسرا حصہ کامل غازی اور اعلٰی درجہ کے شہید ہوں گے۔اس میں اشارۃً فرمایا گیا کہ اس حصہ کا بڑا حصہ شہید ہو جاوے گا تھوڑا حصہ بچے گا۔
Flag Counter