۱؎ یعنی مسلمانوں کو دنیا میں کہیں پناہ نہ ملے گی،تمام دنیا کے مسلمان سمٹ کر مدینہ منورہ میں پناہ لیں گے،مدینہ منورہ کے اندر رہے اور کوئی مدینہ منورہ سے باہر چوطرفہ اسی شہر پاک کی حفاظت کے لیے غرضکہ مسلمان صرف یہاں ہی ہوں گے۔
۲؎ یعنی مسلمانوں کی آخری سرحد مقام سلاح ہوگا،خیبر سے قریب ایک جگہ ہے اور خیبر مدینہ منورہ سے قریب ایک سو نوے کیلومیٹر ہے،ایک کیلو میٹر پانچ فرلانگ کا ہوتا ہے۔مسلمان اپنے اس ملک کی حفاظت کے لیے مقام سلاح میں چھاؤنیاں بناکر یہاں ہی رہیں گے آس پاس سارے کفار ہوں گے ۔غرضکہ مسلمان اس وقت بہت سخت تنگی میں ہوں گے،دنیا بھر کے مسلمان صرف ڈیڑھ سو میل کے رقبہ میں آباد ہوں گے۔