Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
273 - 4047
حدیث نمبر 273
روایت ہے ذی مخبر سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ تم روم سے امن و امان والی صلح کرو گے تو تم اور وہ اپنے سامنے والے دشمن سے جنگ کرو گے۲؎ تو تم کو فتح دی جاوے گی اور تم غنیمت حاصل کرو گے اور سلامت رہو گے۳؎ پھر تم لوٹو گے حتی کہ ٹیلوں والی چراگاہ میں اترو گے۴؎ تو عیسائیوں میں ایک شخص صلیب اٹھاکر کہے گا کہ صلیب غالب آگئی ۵؎  تو مسلمانوں میں سے ایک شخص غضب ناک ہوکر اسے توڑ دے گا۶؎  اس وقت روم عہد شکنی کریں گے اور جنگ کے لیے جمع ہوجائیں گے،بعض راویوں نے یہ زیادہ فرمایا کہ پھر مسلمان اپنے ہتھیاروں کی طرف جوش سے بڑھیں گے ۷؎پھر جنگ کریں گے تو اللہ اس جماعت کو شہادت سے عزت دے گا ۸؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎  ذی مخبر  نجاشی  یعنی شاہ حبشہ کے بھتیجے ہیں ،  حضور صلی  اللہ علیہ وسلم کے خاص خاد م ،آپ سے  کئی  صحابہ و تابعین نے روایت لی۔ مخبر میم کے کسرہ اور خ کے سکون سے ہے  ،ب کے فتح سے،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔

۲؎  یعنی تم مسلمان اور رومی عیسائی دونوں مل کر مشترکہ دشمن سے جنگ کرو گے  وہ دشمن غالبًا مشرکین ہوں گے ، یہ احتمال  ضعیف ہے کہ  وہ دشمن  یہود ہوں گے۔

۳؎  یعنی اس جنگ میں تم کو مالی و جانی نقصان بہت کم ہوگا مگر فتح بہت شاندار ہوگی اور غنیمت  بیشمار حاصل ہوگی۔

۴؎ یعنی غنیمت تقسیم کرنے کےلیے تم اور عیسائی ایک  سبزہ زار میدان میں اطمینان سے جمع ہوؤ گے ۔معلوم ہوا کہ کفار کے ساتھ مل کر جہاد کرنا جائز ہے۔

۵؎  ہمارے ملک میں صلیب کو ایکس کی شکل  پر دکھاتے ہیںX اسی طرح مگر صلیب کی شکل ایسی ہے جیسے انگریزی ٹائی کی نوک اوپر نکلی ہوئی ،اسی طرح عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت عیسٰی علیہ السلام کی سولی اس  شکل کی لکڑی پر دی گئی، اس موقع پر ایک رومی عیسائی کہے گا کہ  یہ فتح ہماری صلیب کی برکت سے ہوئی۔

۶؎   اور صلیب توڑ کر کہے گا کہ فتح ہمارے کلمہ طیبہ کی برکت سے ہوئی  تیری صلیب کی کوئی حقیقت نہیں اس پر ان کی آپس میں جنگ چھڑ جائے گی  جیسا کہ آگےارشاد ہے۔

۷؎  یعنی غنیمت وغیرہ کو چھوڑ کر ہتھیار اٹھائیں گے   سخت جنگ ہوگی۔

۸؎  یعنی اس جنگ میں مسلمان   زیادہ شہید ہوں گے۔
Flag Counter