Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
266 - 4047
حدیث نمبر 266
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہ قائم ہوگی قیامت حتی کہ روم اعماق یا دابق میں اتریں گے ۱؎  تو مدینہ سے ایک لشکر ان کی طرف نکلے گا جو اس دن تمام زمین والوں سے بہترین ہوگا۲؎  تو جب یہ لوگ صف آراء ہوں گے تو روم کہیں گے کہ ہمارے درمیان اور ان کے درمیان جو ہم میں سے قیدکرلیے گئے ہٹ جاؤ ہم ان سے جنگ کریں گے۳؎  تو مسلمان کہیں گے اللہ کی قسم ہم تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان علیحدگی نہ کریں گے چنانچہ مسلمان ان سے جنگ کریں گے تہائی بھاگ جائیں گے اللہ ان کی توبہ کبھی قبول نہ کرے گا اور تہائی قتل ہوجائیں گے وہ اللہ کے نزدیک افضل ترین شہید ہیں اور تہائی فتح کریں گے یہ کبھی فتنہ میں مبتلا نہ ہوں گے۴؎  پھر یہ قسطنطنیہ فتح کریں گے۵؎  جب کہ یہ غنیمتیں آپس میں تقسیم کرتے ہوں گے اپنی تلواریں زیتون کے درختوں سے لٹکا چکے ہوں گے۶؎  ان میں شیطان چیخے گا کہ مسیح دجال تمہارے گھروں میں تمہارے پیچھے پہنچ گیا یہ لوگ نکل کھڑے ہوں گے یہ خبر غلط ہوگی۷؎  پھر جب یہ لوگ شام میں آئیں گے تو دجال ظاہر ہوگا جبکہ یہ جنگ کی تیاری کررہے ہوں گے ۸؎  صفیں سیدھی کرتے ہوں گے کہ نماز قائم ہوگی تو عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے ۹؎  وہ ان کی امامت کریں گے۱۰؎  پھر جب اﷲ کا دشمن انہیں دیکھے گا تو گلنے لگے گا جیسے نمک پانی میں گلتا ہے ۱۱؎  اگر آپ اسے چھوڑ دیتے تو وہ گل جاتا حتی کہ ہلاک ہوجاتا لیکن اللہ اسے آپ کے ہاتھ سے ہلاک کرے گا تو آپ لوگوں کو اس کا خون اپنے نیز ے میں دکھائیں گے۔(مسلم)
شرح
۱؎ اعماق مدینہ منورہ کے متصل ایک میدن کا نام ہے اور دابق ب کے فتحہ سے مدینہ پاک کا ایک بازار ہے،حلب کے قریب ایک بستی کا نام بھی دابق ہے۔بعض نے کہا وہ یہاں مراد نہیں مگر مرقات نے فرمایا کہ یہاں اعماق سے مراد دمشق کے علاقہ کی ایک بستی اور دابق حلب کے پاس کی بستی اور مدینہ سے مراد شہر دمشق ہے نہ کہ مدینہ منورہ کیونکہ اس زمانہ میں مدینہ منورہ ویران ہوگا وہاں کوئی آبادی نہ ہوگی یہ ہی صحیح ہے۔

۲؎  مدینہ سے مراد شہر دمشق ہے کیونکہ یہ لشکر حضرت امام مہدی کا ہوگا،یہ لشکر شام ہی سے نکلے گا،اس جنگ کے بعد دجال کا فتنہ نمودار ہوگا۔

۳؎  اس واقعہ سے پہلے ایک لشکر اسلام رومیوں پر جہاد کرکے ان کے بہت سے قیدی گرفتار کرچکا ہوگا،رومی اس وقت مسلمانوں سے کہیں گے کہ ہم تم سے جنگ کرنا نہیں چاہتے ان مسلمانوں کو ہمارے سامنے کر دو جو ابھی کچھ عرصہ پہلے ہم سے لڑ کر ہمارے آدمی قید کرکے لے گئے ہیں۔رومیوں کا یہ کہنا محض دھوکے اور مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے کے لیے ہوگا ورنہ ان کا مقصد سب مسلمانوں سے لڑنا ہوگا۔(اشعہ و مرقات)

۴؎  یعنی اس جنگ میں مسلمانوں کے تین حصے ہوجائیں گے: ایک حصہ تو بزدل ہوکر بھاگ جائے گا،دوسرا حصہ جنگ میں شہید ہوجائے گا،تیسرا حصہ غازی اور فاتح ہوگا۔بھاگنے والے اول درجہ کے بدنصیب ہوں گے،شہید ہونے والے اول درجہ کے شہید،فاتحین اول درجہ کے غازی۔غرضکہ ہر جماعت اول درجہ کی ہوگی کوئی بدنصیبی میں اول درجہ،کوئی خوش نصیبی میں۔

۵؎  قسطنطنیہ روم کا مشہور شہر ہے جسے آج استنبول کہتے ہیں،یہ ایک بار زمانہ صحابہ کرام میں فتح ہوچکا ہے اور اب تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہے یہ پھر مسلمانوں کے ہاتھ سے نکل جاوے گا اور قریب قیامت پھر مسلمان اسے فتح کریں گے یہاں اس آخری فتح کا ذکر ہے جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔

۶؎  یعنی فتح پاکر نہایت امن و سکون سے ہوچکے ہوں گے اس لیے اپنی تلواریں درختوں سے لٹکا دی ہوں گی۔امن کی حالت میں غازی ہتھیار جسم سے کھولتے ہیں۔

۷؎  یعنی تم تو یہاں روم میں امن و امان سے ہو تمہارے وطن شام میں دجال ظاہر ہوگیا اور تمہارے گھروں میں تمہارے بیوی بچے کو بہکارہا ہے یہ حضرات یہ خبر سنتے ہی یہ غازی دجال سے مقابلہ کرنے کی نیت سے چل پڑیں گے غنیمت وغیرہ کی طرف دھیان نہ دیں گے شام میں پہنچ کر معلوم ہوگا دجال ابھی نہیں نکلا۔

۸؎  غالبًا شام سے مراد بیت المقدس ہے کہ بیت المقدس اگرچہ فلسطین میں ہے مگر فلسطین شام سے بالکل قریب ہے اس لیے شام فرمایا۔(مرقات)ان کو دجال کے نکلنے کی اب درست اطلاع ہوگی انہیں بیت المقدس میں یہ خبر ملے گی۔

۹؎  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول دمشق کے باب لد میں شرقی منارہ پر ہوگا ۔

۱۰؎  اس نماز میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام امامت فرمائیں گے آئندہ بقیہ نمازوں میں امام مہدی امامت کیا کریں گے لہذا یہ حدیث حضرت مہدی کی امامت والی حدیثوں کے خلاف نہیں کہ یہاں اس نماز کی امامت مراد ہے وہاں دوسری نمازوں کی امامت۔

۱۱؎  پہلے عیسیٰ علیہ السلام کی سانس میں مردے زندہ کرنے کی تاثیر تھی اب جو آئیں گے تو ان کی سانس میں زندہ کافروں کو مردہ کرنے کی تاثیر ہوگی،جہاں تک آپ کی نگاہ پہنچے گی وہاں تک آپ کی سانس پہنچے گی اور وہاں تک کہ کفار مریں گے۔دجال آپ کی سانس کی یا نگاہ کی تاثیر سے گھلنے لگے گا مگر آپ جلدی سے اس تک پہنچ کر قتل کریں گے اور جو لوگ اس کو خدا مان چکے تھے انہیں اس مردود کا خون دکھائیں گے کہ لو تمہارا خدا مارا گیا ہے،یہ ہے اس کا خون،دجال فلسطین یا شام میں مارا جائے گا۔بعض شارحین نے فرمایا کہ اولًا دجال بیت المقدس کا محاصرہ کیے ہوگا آپکو دیکھ کر شام کی طرف بھاگے گا،شام کے شروع اور فلسطین کے آخری کنارہ پر مارا جائے گا لہذا تمام احادیث متفق ہیں۔(مرقات)
Flag Counter