| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضر ت عبداﷲ ابن مسعود سے فرماتے ہیں کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ میراث بانٹی نہ جائے ۱؎ اور غنیمت سے خوشی نہ منائی جائے ۲؎ پھر فرمایا کہ قوی دشمن جمع ہوں گے شام والوں کے مقابل اور انکے مقابلہ میں مسلمان جمع ہوں گے یعنی رومیوں کے مقابل۳؎ تو مسلمان ایک دستہ منتخب کریں گے موت کے لیے نہ غالب ہوئے نہ لوٹیں گے۴؎ پس سخت جنگ کریں گے حتی کہ ان کے درمیان رات آڑ ہوجائے گی تو یہ بھی لوٹ جائیں گے اور وہ بھی کوئی غالب نہ ہوگا۵؎ اور یہ دستہ فنا ہو جاوے گا ۶؎ پھرمسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ بغیر غالب ہوئے نہ لوٹیں گے۷؎ تو عظیم جنگ کریں گے حتی کہ ان کے درمیان رات آڑے آجاوے گی تو یہ اور راہ لوٹ جائیں گے کوئی غالب نہ ہوگا اور دستہ فنا ہوجاوے گا مگر پھر مسلمان موت کی شرط لگائیں گے کہ بغیر غالب ہوئے نہ لوٹیں گے تو عظیم جنگ کریں گے حتی کہ شام ہوجاوے گی تو یہ اور وہ لوٹ جائیں گے کوئی غالب نہ ہوگا ۸؎ اور شرط فنا ہوچکے گی پھر جب چوتھا دن ہوگا تو کفار کی طرف بچے کھچے مسلمان اٹھ کھڑے ہوں گے ۹؎ تو اللہ ان کفار پر شکست ڈال دے گا۱۰؎ تو مسلمان اس طرح قتل کریں گے کہ اس جیسا نہ دیکھا گیا ہوگا ۱۱؎ حتی کہ پرندہ ان کے اردگرد گزرے گا تو انہیں پیچھے نہ چھوڑ سکے گا۱۲؎ حتی کہ گر کر مرجاوے گا۱۳؎ تو ایک دادا کی اولاد جو سو تھی گنی جاوے گی تو ان میں سے ایک کے سوا کسی کو باقی نہ پائیں گے ۱۴؎ تو کون سی غنیمت سے خوشی منائی جاوے اور کون سی میراث بانٹی جاوے ۱۵؎ جب وہ اس حالت میں ہوں گے کہ اچانک اس سے بڑی جنگ سنیں گے کہ ان تک ایک چیخ آوے گی کہ دجال ان کے پیچھے ان کے بچوں میں پہنچ گیا ۱۶؎ تو وہ لوگ چھوڑ دیں گے جو کچھ ان کے ہاتھوں میں ہے اور ادھر متوجہ ہوجا ئیں ۱۷؎ تو وہ دس سوار جاسوس بھیجیں گے ۱۸؎ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میں ان کے نام انکے باپ دادوں کے نام اور ان کے گھوڑوں کے رنگ پہچانتا ہوں۱۹؎ وہ لوگ اس دن روئے زمین پر بہترین سوار ہوں گے۲۰؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی قریب قیامت مقتول اس قدر زیادہ ہوں گے کہ ان کے بچے کھچے وارث میراث آپس میں نہ بانٹیں گے یا مال اس قدر زیادہ ہوچکا ہوگا لوگ اپنے مورثوں کی میراث نہ بانٹیں گے کہ ہمارے پاس خود اپنا مال اتنا ہے کہ دوسرے مال کا ہم کیا کریں یا اس لیے کہ اس زمانہ میں کوئی عالم نہ ہوگا جو شریعت کے مطابق میراث تقسیم کرے یا بادشاہوں کا ظلم اتنا بڑھا ہوا ہوگا کہ مردوں کے مال کی میراث تقسیم نہ ہونے دیں گے۔سب اپنے بیت المال میں جمع کردیں گے مگر پہلے معنی زیادہ قوی ہیں جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ ۲؎ اس فرمان عالی کے بھی وہ ہی مطلب ہیں جو ابھی عرض کیے گئے کہ لوگ بہت زیادہ شہید ہوچکے ہوں گے باقی غازی غنیمت تقسیم نہ کریں گے۔جب سو میں سے ایک یا ہزار میں سے ایک بچے تو وہ کیا غنیمت تقسیم کرے یا ظالم بادشاہ غنیمت کا مال خود کھا جائیں گے وغیرہ۔ ۳؎ یہ تفسیر سیدنا ابن مسعود کی ہے۔مطلب یہ ہے کہ شامی مسلمان اور رومی کفار کی جنگ ہوگی یہ اجتماع اسی جنگ کے لیے ہوگا۔عدو سے مراد رومی کفار ہیں۔ ۴؎ یعنی اس جنگ میں شرط لگاکر نکلیں گے کہ یا فتح کریں گے یا شہید ہوجائیں گے،ہم پیٹھ نہ دکھائیں گے،عجیب جذبہ سے جائیں گے یہ شام کے مسلمان ہوں گے۔یا شرطہ شین کے پیش سے فوج کا اگلا دستہ جو دشمن کے مقابل جاوے۔ ۵؎ یعنی جنگ ختم نہ ہوگی بلکہ بند ہوگی وہ بھی رات آجانے کی وجہ سے۔آج کل کی موجودہ جنگیں جو راکٹ،بم،ہوائی جہازوں سے ہوتی ہیں وہ بھی رات میں ہلکی پڑ جاتی ہیں۔فوجی جنگ تو بہت ہی ہلکی ہوجاتی ہے،شہروں پر بم باری بھی ہلکی ہوجاتی ہے۔ ۶؎ یعنی مسلمانوں کا اور کفار کا اگلہ دستہ ختم ہوچکا ہوگا،مسلمان جام شہادت پی چکے ہوں گے،یہ مطلب نہیں کہ صرف مسلمانوں کا دستہ شہید ہوجاوے ورنہ کفار کی فتح ہوجاتی ہے لہذا حدیث واضح ہے۔خیال رہے کہ اس لڑنے والے دستہ کے ساتھ مدد کے لیے اور مسلمان بھی ہوں گے دستہ شہید ہوجاوے گا بقیہ مسلمان لوٹ جاویں گے۔لہذا فرمان عالی پر یہ اعتراض نہیں کہ جب یہ دستہ شہید ہوگیا تو واپس کون لوٹا۔(مرقات)اور اگر شرطہ بمعنی شرط ہو تو مطلب ظاہر ہے کہ یہ شرط ختم ہو جاوے گی بغیر غلبہ واپسی ہوگی۔ ۷؎ یہاں بھی شرطہ میں دو احتمال ہیں شین کے فتح سے بمعنی شرط لگانا اور شین کے پیش سے بمعنی دستہ فوج کا تیار کرنا۔ (مرقات) ۸؎ ان آخری دونوں جملوں کے وہ ہی دو معنے ہیں جو ابھی عرض کیے گئے ہیں کہ یا تو وہ غازیوں کا دستہ شہید ہوجاوے گا باقی مسلمان لوٹ جائیں گے یا ان کی یہ شرط ختم ہوجاوے گی بغیر غلبہ کے واپسی ہوگی۔ ۹؎ فہد اور نہض دونوں کے معنی ہیں اٹھ کھڑا ہونا یعنی غازیان اسلام ان تین دن کی تکالیف کے بعد ہمت نہ ہاریں گے بلکہ ان میں جوش و خروش بڑھتا ہی جاوے گا اب چوتھی بار بچے کھچے مسلمان کفار پر یلغار کردیں گے۔ ۱۰؎ دبرہ بنا ہے دبر سے بمعنی پیچھا یہاں مراد ہے پیچھے کو بھاگنا یعنی بھاگڑ پڑ جانا۔علیہم کا مرجع کفار روم ہیں یعنی اس چوتھے جملہ میں اللہ تعالٰی کفار روم میں بھاگڑ ڈال دے گا کہ وہ پیٹھ پھیر کرمسلمانوں کے مقابلہ سے بھاگ کھڑے ہوں گے۔ ۱۱؎ یعنی کفار میں بھاگڑ پڑ جانے پر ان کا قتل عام ہوجاوے گا،مسلمانوں کے ہاتھوں بہت ہی کفار مارے جائیں گے ایسا قتل عام اس سے پہلے نہ دیکھا گیا ہوگا۔ ۱۲؎ پرندہ سے مراد عام چڑیا ہے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے کوا مراد ہو یہ فرمان عالی ان لاشوں کی زیادتی بتانے کے لیے ہے خواہ پرندہ اڑے یا نہ اڑے۔ ۱۳؎ یا تو لاشوں کی بدبو سے مریں گے یا ان کی زیادتی کی وجہ سے کہ اتنی دور تک لاشیں پڑی ہوں گی کہ اس کا فاصلہ پرندہ طے نہ کرسکے گا اڑتے اڑتے مرجاوے گا مگر فاصلہ طے نہ ہوگا،یہ آخری احتمال قوی ہے شاعر کہتا ہے۔شعر لایبلغ السمك المحصور غایتھا لبعد مابین قاصیھا ودانیھا ۱۴؎ وہ تو کفار مقتولین کا حال تھا اب مسلمان شہداء کی تعداد سنو کہ یہ بقیہ غازی اپنے بچے کھچوں کو شمار کریں گے تو حالت یہ ہوگی کہ جس قبیلہ کے سو آدمی جہاد میں آئے تھے ان میں سے ایک بچا ہوگا ننانوے شہید ہوچکے ہوں گے یعنی ایک فی صد بچے گا۔اللہ کی پناہ! ۱۵؎ وہ جو پہلے ارشاد ہوا تھا کہ غنیمت تقسیم نہ کی جاوے میراث نہ بٹے گی اس کی وجہ یہ ارشاد ہوئی یعنی جب سو میں ایک بچا تو وہ کس کس کی میراث لے اور کیا غنیمت تقسیم کرے لہذا یہ ہی احتمال قوی ہے کہ زیادہ مردوں کی وجہ سے یہ کام ہوگا۔ ۱۶؎ یہ خبر درست ہوگی واقعی دجال نمودار ہوچکا ہوگا پہلی بار جو خبر اڑی تھی وہ غلط تھی جیساکہ پہلے عرض کیا گیا۔ ۱۷؎ اپنے بال بچوں کو دجال سے بچانے کے لیے نہ کہ دجال سے جنگ کرنے کے لیے کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام کی تشریف آوری سے پہلے تو اس سے جنگ ہوگی ہی نہیں اور جناب مسیح کی تشریف آوری پر وہ قتل ہوگا جنگ جب بھی نہ ہوگی۔ ۱۸؎ طلیعہ بنا ہے طلع سے بمعنی خبر اسی سے ہے اطلاع یعنی خبر دینا یا خبر پانا۔طلیعہ واحد کے لیے بھی آتا ہے جمع کے لیے بھی یعنی مسلمان دس سواریوں کو دجال کی خبر کی تحقیقات کے لیے بھیجیں گے کہ واقعی وہ نکلا ہے یا پہلے کی طرح یہ خبر بھی غلط ہے اگر نکلا ہے تو کہاں ہے کیا کر رہا ہے۔ ۱۹؎ یہ فرمان عالی ان دس حضرات کی عزت افزائی کے لیے ہے ورنہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم ساری مخلوق کے نام کا م ان کی حرکات سکنات جانتے ہیں۔کیوں نہ جانیں کہ حضور سب کے گواہ اور نگران ہیں،رب فرماتاہے:"وَیَکُوۡنَ الرَّسُوۡلُ عَلَیۡکُمْ شَہِیۡدًا"خود فرمایا لایخفی علی رکوعکم ولا سجودکم ولاخشوعکم(تاقیامت کے)مجھ پر تمہارے رکوع سجدے دل کا خشوع خضوع پوشیدہ نہیں،میں تم سب کے ظاہری اعمال دل کے احوال جانتا ہوں۔یہ ہے حضور انور کا غیب کلی صلی اللہ علیہ و سلم،حضور ان سب کو ملاحظہ فرمارہے ہیں۔ ۲۰؎ روئے زمین فرماکر فرشتوں کو علیحدہ فرمادیا اور اس دن فرما کر حضرات صحابہ عشرہ مبشرہ وغیرہم کو علیحدہ فرمادیا یعنی اس زمانہ کے موجود مسلمانوں میں سب سے بہتر و افضل یہ لوگ ہوں گے۔