| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت عوف ابن مالک سے ۱؎ فرماتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب حضور چمڑے کے خیمہ میں تھے ۲؎ تو فرمایا کہ قیامت سے پہلے چھ چیزیں گن لو: میری موت، پھر بیت المقدس کی فتح،پھر عام موت جو تم میں بکریوں کی وبا کی طرح پھیلے گی۳؎ پھر مال کا بہہ جانا حتی کہ ایک شخص کو سو دینار دیئے جائیں گے پھر بھی وہ ناراض رہے ۴؎ پھر وہ فتنہ کہ عرب کا کوئی گھر نہ رہے مگر وہ اس میں داخل ہوجائے گا پھر وہ صلح جو تمہارے اور رومیوں کے درمیان ہوگی پھر وہ عہد شکنی کریں گے ۵؎ تو تمہارے مقابل اسی جھنڈوں تلے آئیں گے ہر جھنڈے تلے بارہ ہزار ہوں گے ۶؎(بخاری)
شرح
۱؎ آپ اشجعی ہیں،مشہور صحابی ہیں،غزوہ خیبر اور اس کے بعد کے غزوات میں شریک ہوئے،فتح مکہ کے دن قبیلہ بنی اشجع کا جھنڈا آپ کے ہاتھ میں تھا،آخر میں شام میں رہے، ۷۳ھ تہتر میں وفات پائی۔ ۲؎ تبوک خیبر سے پانچ سو میل کیلومیٹر ہے۔حق یہ ہے کہ یہ شام کے علاقہ میں ہے تبوک کے بعد مان ہے اور مان کے بعد عمان پھر عمان سے قریبًا ایک سو کیلو میٹر بیت المقدس ہے۔کیلومیٹر پانچ فرلانگ کا ہوتا ہے یعنی ہمارے میل سے تین فرلانگ چھوٹا۔ ۳؎ قعاص قاف کے پیش سے بکریوں کی وبائی بیماری جس سے بکری بہت جلدی مرجاتی ہے،یہ واقعہ بھی عہد فاروقی میں ہوچکا کہ لشکر اسلام بیت المقدس کے قریب عمواس بستی میں تھا وہاں طاعون پھیلا جس سے تین دن میں ستر ہزار آدمی فوت ہوگئے،اس وبا کا نام طاعون عمواس ہے یہ اسلام میں پہلا طاعون ہے۔(اشعہ،مرقات)بعض محدثین نے فرمایا کہ یہ طاعون عمواس میں پھیلا مگرلشکر اسلام جابیا میں تھا عمواص کے قریب عمواس میں اتنے لوگ مرے نہ کہ لشکر میں۔ ۴؎ یہ زیادتی مال خلافت عثمانی میں ہوچکی،اس سے متصل ہی میں شہادت عثمان اور بعد کے فتنے جو سارے عرب میں پھیل گئے چنانچہ ارشاد ہوا ثم فتنۃ الخ۔ ۵؎ بنی اصفر رومیوں کو کہتے ہیں جو روم ابن عیصو ابن اسحاق علیہ السلام کی اولاد ہیں،چونکہ روم زرد رنگ مائل بہ سفیدی تھے اس لیے انہیں اصفر کہتے تھے اور ان کی اولاد کو بنی اصفر۔ ۶؎ لشکر کی کل تعداد نوے لاکھ ساٹھ ہزار ہوئی عہد فاروقی میں جنگ یرموک میں عیسائی سات لاکھ تھے مسلمان چالیس ہزار مگر یہاں وہ جنگ مراد نہیں یہ جنگ تو شہادت عثمان کے بعد ہے جیساکہ ثم سے معلوم ہورہا ہے۔