| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت نافع ابن عتبہ سے فرماتے ہیں ۱؎ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ تم لوگ جزیرہ عرب پر جہادکرو گے تو اللہ اسے فتح فرمادے گا ۲؎ تو پھرفارس پر تو اللہ وہ بھی فتح کردے گا پھر تم روم پر غزوہ کرو گے تو اللہ وہ بھی فتح کردے گا۳؎ پھر تم دجال پر جہاد کرو گے تو اللہ وہ بھی فتح کردے گا ۴؎(مسلم)
شرح
۱؎ نافع ابن عتبہ ابن ابی وقاص زہری ہیں،حضرت سعد ابن ابی وقاص کے بھتیجے فتح مکہ کے دن ایمان لائے،آپ کا لقب مرقال تھا۔ ۲؎ یعنی عرب کا کچھ حصہ ہم فتح فرمالیں گے بقیہ حضرات صحابہ فتح کریں گے حتی کہ جزیرہ عرب میں سواء اسلام کے کوئی دین نہ رہے گا یہ واقعہ ہوچکا۔ ۳؎ یہ دونوں ملک عہد فاروقی میں فتح ہوئے اور آج تک مسلمانوں کے قبضہ میں ہیں فارس تو سارا اور روم کا اکثر حصہ۔ ۴؎ اس فرمان عالی میں خطاب صحابہ کرام سے نہیں بلکہ مسلمانوں سے ہے کیونکہ دجال کا مقابلہ حضرات صحابہ نہیں کریں گے۔ہوسکتا ہے کہ خطاب صحابہ کرام سے ہی ہو کیونکہ خضر علیہ السلام اس مقابلہ میں موجود ہوں گے۔صلح حدیبیہ میں حضرت خضر نے حضور سے بیعت کی ہے جیساکہ ہم بیعت الرضوان کے بیان میں عرض کرچکے ہیں،بلکہ بعض محدثین فرماتے ہیں کہ وہ مدنی صاحب جنہیں ایک دجال ذبح کرکے زندہ کرے گا پھر نہ مار سکے گا وہ خضر علیہ السلام ہی ہوں گے یعنی تم دجال پر جہاد کرو گے جن علاقوں پر اس نے قبضہ کرلیا ہوگا تم دجال کو قتل کرکے ان پر قبضہ کرو گے لہذا حدیث واضح ہے۔