۱؎ یعنی ملک ایران جب مسلمان فتح کرلیں گے تو وہ ملک پھرکسی کافر کے پاس نہ پہنچے گا مسلمانوں ہی کے پاس رہے گا۔یہ غیبی خبر ہے چنانچہ ملک ایران عہد فاروقی میں فتح ہوا اور خدا کا فضل ہے کہ اب تک مسلمانوں ہی کے پاس ہے رب تعالٰی مسلمانوں ہی کے پاس رکھے۔
۲؎ چونکہ فتح فارس پہلے ہوئی،فتح روم بعد میں اس لیے فارس کے متعلق ھلك ماضی ارشاد ہوا اور فتح روم بعد میں اس لیے اس کے متعلق لیھلکن مضا رع مع تاکید ارشاد ہوا یہ دونو ں علاقے عہد فاروقی میں فتح ہوئے اور اس کے متعلق خبر دی گئی کہ فتح روم کے بعد یا تو وہ کفار کے پاس پہنچے گا ہی نہیں یا پہنچے گا تو موجودہ قیصر کی اولاد سے کوئی وہاں کا بادشاہ نہ بنے گا یا اس بادشاہ کا لقب قیصر نہ ہوگا بہرحال حضور سچے حضور کی ساری خبریں سچی ہیں۔
۳؎ یعنی ان ملکوں کے خزانے مسلمان فتح کرکے جہادوں اور اسلام کی اشاعت میں خرچ کریں گے یہ زمانہ فاروقی میں ہوچکا۔
۴؎ یہاں خدعہ بمعنی فریب وجھوٹ نہیں بلکہ بمعنی جنگی چال جنگی تدبیر ہے جس سے دشمن جلد ہتھیار ڈال دے، جنگ میں شمشیر سے زیادہ تدبیر کام آتی ہے،تدبیر سے خونریزی کم ہوتی ہے فتح جلد،مسلمانوں کو تدبیر و شمشیر دونوں سے کام لینا چاہیے۔جنگی تدبیروں کی مثالیں حضور صلی اللہ علیہ و سلم اور صحابہ کرام کے جہادوں میں ملتی ہیں،حضور جب مغرب میں حملہ کرنا چاہتے تو مشرق کے حالات پوچھتے تاکہ کفار کے جاسوس مغرب والوں کو مطمئن کردیں مشرق والوں کو تیار کردیں اچانک مغرب کی طرف حملہ فرمادیتے،حضرات صحابہ نے بعض جنگوں میں اپنی فوجیں پیچھے ہٹالیں، کفارسمجھیں مسلمان بھاگ گئے اور رات کو اچانک حملہ کردیا،تھوڑی فوج سے چو طرفہ سے اس طرح حملہ کردیا کہ کفارسمجھے کہ مسلمان لاکھوں کی تعداد میں آن پڑے اور انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے مسلمانوں نے فتح پالی،اﷲ تعالٰی پاکستان کو قائم دائم رکھے۔