۱؎ اس فرمان عالی میں لفظ آل زیادہ ہے،کسری شاہ فارس کا لقب تھا جو خسرو سے بنا تھا جیسے قیصر شاہ روم کا اور خاقان شاہ چین کا اور فرعون یا عزیز شاہ مصر کا اور نجاشی شاہ حبشہ کا لقب تھا۔
۲؎ یہ واقعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں ہوچکا۔ابیض اس قلعہ کا نام ہے جس میں کسریٰ کا خزانہ محفوظ تھا،یہ قلعہ اس زمانہ کے عجائبات میں سے تھا اب اس جگہ مسجد بنی ہوئی ہے جسے مسجد مدائن کہتے ہیں۔(اشعہ)نیز ابیض یمامہ کے ایک شہر کا نام بھی ہے یہاں پہلے معنی مراد ہیں۔(اشعہ)ابیض کسریٰ کو خلیفہ مکتفی باللہ نے ویران کردیا۔