Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
259 - 4047
حدیث نمبر 259
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ نہیں قائم ہوگی قیامت حتی کہ جنگ کریں گے مسلمان اور یہودی تو یہود کو مسلمان قتل کریں گے ۱؎ حتی کہ یہودی پتھر اور درخت کے پیچھے چھپے گا تو پتھر اور درخت کہے گا کہ اے مسلم اے اللہ کے بندے یہ یہودی میرے پیچھے ہے آ اسے قتل کر ۲؎ سوا غرقد کے کہ وہ یہود کے درختوں میں سے ہے۳؎(مسلم)
شرح
۱؎ اس حدیث سے معلوم ہورہا تھا کہ یہود کی سلطنت قائم ہوگی اور ان سے مسلمان کی بہت بڑی جنگ ہوگی،آخری جنگ میں مسلمانوں کی فتح اور یہود کی شکست ہوگی بلکہ یہود دنیا سے فنا ہوجائیں گے اور مسلمانوں کے ہاتھوں فنا ہوں گے ان شا اﷲ۔چنانچہ یہود کی سلطنت فلسطین میں قائم ہوچکی ہے،امریکہ و برطانیہ کی بڑی مدد سے ان کا علاقہ پھیل رہا ہے، ۱۹۶۷ء؁  میں عرب اور یہود کی جنگ ہوئی،مسلمانوں کو اس جنگ میں بڑی تکلیفیں پہنچی حتی کہ اس وقت بیت المقدس پر بھی یہود کا قبضہ ہے،اس عارضی فتح سے یہود کے حوصلے بہت بلند ہوگئے۔ان شاءاﷲ یہ اس جنگ کی تمہید ہے جس کی خبر اس حدیث پاک میں دی گئی۔

۲؎  یہ فرمان عالی بالکل حق ہے اور ظاہری معنی پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔واقعی اس وقت پتھر اور درخت مسلمانوں سے کلام کریں گے اور اپنے پیچھے چھپے ہوئے یہودی کی خبر دیں گے۔یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں کہ یہود پر تا قیامت ذلت ڈال دی گئی کیونکہ یہود کی یہ سلطنت کا قیام ان کی بڑی ذلت کا پیش خیمہ ہے۔

۳؎  غرقد ایک خار دار درخت کا نام ہے اس لیے مدینہ منورہ کے قبرستان کا نام بقیع غرقد ہے یعنی غرقد کا علاقہ،چونکہ اس زمانہ میں اس میدان میں غرقد کے درخت بہت تھے اس لیے اس کا بقیع غرقد نام رکھا گیا۔یہود اس درخت کی تعظیم کرتے انکے بعض جہلاء اسے پوجتے ہیں،ان کا خیال ہے وادیٔ طوی میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اسی درخت سے رب نے پکارا تھا،یہ ہی درخت کلام الٰہی کا مظہر یا مصدر بنا تھا،رب فرماتاہے:"مِنَ الشَّجَرَۃِ اَنۡ یّٰمُوۡسٰۤی اِنِّیۡۤ اَنَا اللہُ"مگر یہ غلط ہے،وہ درخت بیری یا عناب کا تھا نہ کہ غرقد کا۔بہرحال یہود اس درخت کی تعظیم بہت کرتے ہیں اس لیے اسے شجر یہود کہتے ہیں،یہ درخت اس دن ان کی پردہ پوشی کرے گا۔حدیث بالکل اپنے ظاہر پر ہے کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔
Flag Counter