۱؎ ویل کے معنی ہیں خرابی شر قریب،دوزخ کے ایک طبقہ کا نام ہلاکت،یہاں بمعنی خرابی ہے۔(مرقات)
۲؎ یعنی اس زمانہ میں جو جنگ و قتال میں حصہ نہ لے وہ کامیاب ہے۔اس شر سے مراد یا تو یاجوج ماجوج کا نکلنا ہے اس وقت ان سے مقابلہ کی طاقت نہ ہوگی اس لیے قتال سے بچنے والا کامیاب رہے گا یا اس شر سے مراد مسلمانوں کی آپس کی جنگیں ہیں جو حضرت عثمان کی شہادت سے شروع ہوئیں اورجنگ جمل و صفین و معرکہ کربلا کی شکل میں ظاہر ہوئی ہیں تب یہ خطاب ان لوگوں سے ہے جسے حق وباطل کا پتہ نہ لگے وہ اس میں قتال سے بچے۔ (از مرقات) اسی لیے جنگ جمل وصفین میں حضرت صحابہ کرام کے تین گروہ ہوگئے: بعض حضرات علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہے،بعض ان کے مقابل،بعض حضرات غیر جانب دار۔یہ وہ ہی حضرات تھے جنہیں پتہ نہ لگا کہ حق پر کون ہے لہذا تینوں جماعتیں اللہ کی مقبول ہیں۔