Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
249 - 4047
حدیث نمبر 249
روایت ہے حضرت عبداللہ ابن عمر سے فرماتے ہیں کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس بیٹھے تھے حضور نے فتنوں کا ذکر فرمایا تو بہت زیادہ ذکر کیا ۱؎ حتی کہ ٹاٹ کے فتنہ کا ذکر فرمایا ۲؎ کسی کہنے والے نے عرض کیا کہ فتنہ احلاس کیا چیز ہے فرمایا وہ بھاگڑا اور لڑائی ہے۳؎ پھر سراء کے فتنہ کا ذکر کیا ۴؎ جن کافساد ۵؎ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کے قدموں کے نیچے سے ہوگا۶؎  وہ سمجھے گا کہ وہ مجھ سے ہے وہ مجھ سے نہیں میرے دوست صرف متقی ہیں ۷؎ پھر لوگ ایسے ایک آدمی پر صلح کریں گے جو پسلی پر گوشت کی طرح ہوگا ۸؎ پھر کالا فتنہ ہوگا ۹؎ جو اس امت میں کسی کو نہ چھوڑے گا مگر اسے طمانچہ لگادے گا۱۰؎ پھر جب کہا جاوے گا کہ فتنہ ختم ہوگیا تو وہ اور پھیلے گا ۱۱؎  اس میں آدمی صبح کرے گا مؤمن ہوکر اور شام کرے گا کافر ہوکر حتی کہ لوگ دو خیموں کی طرف لوٹ جائیں گے،ایک خیمہ ایمان کا جس میں نفاق نہیں اور دوسرا خیمہ نفاق کا جس میں ایمان نہیں۱۲؎  تو جب یہ ہوجاوے تو اس دن یا اس کے اگلے دن دجال کے خروج کا انتظار کرو۱۳؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی بہت سے فتنوں کا ذکر فرمایا یا فتنوں کا بہت ذکر فرمایا کہ ہر فتنہ کی تفصیل بیان فرمائی ہر ایک کا واضح بیان کردیا۔

۲؎  احلاس جمع ہے حلس کی،حلس وہ ٹاٹ ہے جو زمین پر نفیس دریوں غالیچوں کے نیچے بچھایا جاتا ہے اوپر کے بستر بدلتے رہتے ہیں مگر وہ ٹاٹ وہاں ایک ہی جگہ پڑا رہتا ہے اس فتنہ کو یا تو احلاس اس لیے فرمایا کہ وہ فتنہ بہت عرصہ تک رہے گا ٹاٹ کی طرح ہوگا کہ ہٹے گا نہیں اس لیے فرمایا کہ اس زمانہ میں لوگوں کو ٹاٹ کی طرح اپنے گھروں میں رہنا مفید ہوگا جو باہر پھرے گا مبتلا ہوجاوے گا۔

۳؎   اس فتنہ میں لوگ ایک دوسرے سے بھاگیں گے کوئی کسی کی بات نہ سنے گا،ہر ایک دوسرے سے لڑے گا،اسے لوٹے گا،لوگ ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوں گے۔

۴؎  سراء کے لفظی معنی ہیں عیش و عشرت،مال کی زیادتی،چونکہ مسلمانوں میں یہ فتنہ ان کی زیادہ مالداری زیادہ عیش و عشرت کی وجہ سے ہوگا۔زیادتی مال ہزار ہا فتنوں کا سبب ہے اس لیے اسے فتنہ سراء فرمایا گیا یعنی عیش و مال کا فتنہ۔

۵؎  دخن کے لفظی معنی ہیں دھواں،یہاں مراد فتنہ کی ابتداء ہے اس کا فساد ہے کہ دھواں آگ کی ابتداء ہوتا ہے ایسے ہی یہ اس فتنہ کی ابتداء ہوگی۔

۶؎  یعنی اس فتنہ کی ابتداء ایک شخص سے ہوگی جو اولاد فاطمہ سے ہوگا یعنی سید ہوگا یا حاکم ہوگا یا  حکومت کا طلبگار  اپنے خاص نفعے کے لیے لوگوں کو مصیبت میں ڈال دے گا   ،چونکہ لوگ  سید ہونے کی وجہ سے اس  کا  ادب واحترام کرتے ہوں گے اس لیے وہ اپنے اس دینی احترام سے غلط فائدہ اٹھاکر یہ فتنہ پھیلائے گا۔

۷؎  یعنی وہ شخص اپنی ان حرکتوں کے باوجود اپنے کو سید ہی کہے گا اور سمجھے گا کہ میں حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا پیارا ہوں کیونکہ ان کی اولاد سے ہوں۔یہ واقعہ قریب قیامت ہوگا ابھی واقع نہیں ہوا۔خوارج اس حدیث کو حضرت علی رضی اللہ عنہ پرچسپاں کرتے ہیں کہ حضرت علی کی خلافت میں یہ فتنہ واقع ہوچکا مگر یہ ان کی اہل بیت دشمنی ہے ان سرکار کو اس سے کوئی تعلق نہیں،اگلے واقعات بھی جو یہاں مذکور ہیں اس کے خلاف ہیں۔

۸؎  ورك واؤ کے فتحہ ر کے کسرہ سے بمعنی چوتڑ(سیرین)۔ضلع ض کے کسرہ لام کے فتحہ سے پسلی کی ہڈی یعنی جیسے چوتڑ کی گندگی اگر پسلی کی ہڈی پر ہو تو ٹھہرتا نہیں کمزور ہوتا ہے ایسے ہی اس بادشاہ کی حکومت قائم نہ ہوگی بہت کمزور ہوگی۔خلاصہ یہ ہے کہ لوگ اس فتنے سے بچنے کے لیے ایسے شخص کو اپنا بادشاہ مقرر کردیں گے جس کی بادشاہت میں قوت نہ ہوگی،امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ کی حکومت میں یہ کب ہوا۔

۹؎ دھیما مؤنث ہے دھیم سے جس کا مادم دھم ہے بمعنی سخت سیاہ اندھیرا یعنی ایسا اندھیر والا فتنہ ہوگا کہ لوگوں کو اس میں راستہ نظر نہ آوے گا کہ کدھر جاویں۔بعض شارحین نے فرمایا کہ دھیماء ایک اونٹنی تھی جس پر آگے پیچھے سات آدمیوں نے جنگ کی جو سب مارے گئے اونٹنی خالی رہ گئی جب سے عربی میں یہ کہاوت بن گئی کہ ایسے خطرناک فتنہ کو دھیماء کہنے لگے۔(مرقات)

۱۰؎  یعنی یہ فتنہ بہت روز تک رہے گا کبھی ہلکا پڑجاوے گا تو لوگ سمجھیں گے ختم ہو گیا پھر تیز ہوجاوے گا حتی کہ ختم ہوگا۔

۱۱؎  یعنی اس فتنہ سے کوئی نہ بچے گا سب پر اس کا اثر پہنچے گا کسی پر زیادہ کسی پر کم۔

۱۲؎  یعنی لوگوں کے دو گروہ ہوجائیں گے خالص مؤمن،خالص منافق یا فسطاط سے مراد شہر ہیں یعنی لوگ دو شہروں میں بٹ جاویں گے۔

۱۳؎  یعنی اس فتنہ سے متصل خروج دجال ہوگا اس لیے معلوم ہوا کہ یہ فتنہ ابھی واقع نہیں ہوا قیامت کے قریب ہوگا۔وہ کون سید ہوگا جو اس فتنہ کا موجد ہوگا یہ رب جانے اور یہ واقعہ کب ہوگا اس کی تاریخ کا بھی پتہ نہیں۔ (اشعہ)
Flag Counter