Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
251 - 4047
حدیث نمبر 251
روایت ہے حضرت مقداد ابن اسود سے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے محفوظ رہے،نیک بخت ہے وہ جو فتنوں سے محفوظ رہے،نیک بخت وہ ہے جو فتنوں سے محفوظ رہے ۲؎  اورجو مبتلا ہو جاوے تو صبرکرے تو اچھا ہے ۳؎ (ابوداؤد)
شرح
۱؎  آپ کا نام مقداد ابن عمرو کندی ہے کیونکہ آپ کے والد نے قبیلہ بنی کندہ سے معاہدہ کیا تھا،ایک شخص تھا اسود اس نے آپ کی پرورش کی اس لیے آپ ابن اسود کہلائے،قدیم الاسلام صحابی ہیں حتی کہ آپ چھٹے مؤمن ہیں۔

۲؎  حضور انور نے یہ کلام تین بار فرمایا مبالغہ کے لیے یعنی جسے اللہ تعالٰی فتنوں سے بچائے رکھے وہ بڑا ہی خوش نصیب ہے اس طرح کہ اس کی زندگی میں کوئی فتنہ پھیلے ہی نہیں۔

۳؎  فواھا اظہار حیرت کے لیے بھی آتا ہے بمعنی افسوس اور اظہار خوشی کے لیے بھی بمعنی خوب یہاں دونوں معنی ہوسکتے ہیں یعنی جو فتنہ میں پھنس گیا مگر صابر رہا اس پر افسوس ہے کہ وہ مصیبت میں مر گیا  یا فتنہ میں پھنس کر صابر رہا تو بہت خوب ہے۔واھا پوشیدہ فعل کی وجہ سے منصوب ہوا،بعض شارحین نے فرمایا کہ لمن ابتلی میں لام مکسور ہے پھر اس کا مطلب ہی کچھ اور ہوگا،مرقات نے فرمایا کہ واھا اسماء اصوات میں سے ہے تعجب کے لیے بولا جاتا ہے۔
Flag Counter