۱؎ یعنی فتنہ عام ہوگا جو سارے عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا یا اہل عرب کو فتنہ گروں سے صاف و پاک کردے کہ اس وقت فتنہ گر مارے جاویں گے۔استنظاف کے معنی ہیں گھیرنا اور پاک و صاف کرنا،یہاں دونوں معنی بن سکتے ہیں۔(مرقات،اشعہ)
۲؎ یعنی ان فتنوں میں قتل ہونے والے شہید نہ ہوں گے بلکہ دوزخی ہوں گے کیونکہ ان کی موت اسلام کے لیے نہیں بلکہ فتنہ گری کے لیے ہوگی،ملک و مال و عزت کی ہوس میں ایک دوسرے سے جنگ کریں گے،جب مقتولین دوزخی ہوئے تو قاتلین یقینًا دوزخی ہوں گے۔
۳؎ یعنی اس فتنہ میں کسی ایک گروہ کی حمایت دوسروں کو مخالفت میں زبان کھولنا تلوار چلانے سے بدتر ہوگا کہ اس وقت ایسی باتیں بڑے کشت و خون کا باعث ہوں گی،اس سے بڑے بڑے فتنے واقع ہوں گے۔اللہ کی پناہ! بعض لوگوں نے کہا کہ اس سے مراد حضرت امیر معاویہ و علی مرتضٰی کی جنگ ہے مگر یہ غلط ہے کہ وہ دونوں جماعتیں جنتی ہیں اگرچہ حق حضرت علی کے ساتھ تھا اور امیر معاویہ غلطی پر تھے مگر اجتہادی غلطی معاف ہے۔کسی نے ایک عالم سے پوچھا کہ عمر ابن عبدالعزیز افضل ہیں یا امیر معاویہ؟عالم نے فرمایا کہ جس گھوڑے پر امیر معاویہ نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ کفار سے جہاد کیا اس گھوڑے کا غبار عمر بن عبدالعزیز سے افضل ہے،تمام دنیا کے اولیاء اﷲ ایک صحابی کے گرد قدم کو نہیں پہنچ سکتے۔(مرقات)یہ بحث بہت تفصیل سے ہماری کتاب امیر معاویہ پر ایک نظر مطالعہ فرماؤ۔