Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
246 - 4047
حدیث نمبر 246
روایت ہے حضرت ام مالک بہزیہ سے ۱؎  فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فتنہ کا ذکر فرمایا اسے بہت قریب کیا ۲؎ میں نے عرض کیا یارسول اللہ اس میں بہترین آدمی کون ہوگا فرمایا وہ شخص جو اپنے جانوروں میں رہے،ان کا حق ادا کردے اور اپنے رب کی عباد ت کرے ۳؎ اور وہ شخص جو اپنے گھوڑے کا سر پکڑے ہو وہ دشمن کو ڈرائے اور دشمن اسے ڈرائیں۴؎(ترمذی)
شرح
۱؎ آپ صحابیہ ہیں،بہز  ابن امراء القیس کی نسل سے ہیں،حجازیہ ہیں،آپ سے طاؤس اور مکحول تابعین نے حدیث کی روایت کی،آپ کے حالات معلوم نہ ہوسکے۔

۲؎  یعنی اتنا واضح بیان فرمایا کہ اس فتنہ کو ہمارے ذہنوں سے قریب کردیا ہم کو خوب واضح کرکے بتادیا،یہ مطلب نہیں کہ اسے قریب زمانہ میں بتایا کیونکہ یہ فتنہ زمانہ صحابہ میں نہیں ہوا۔

۳؎  یعنی اگر اس کے پاس جانور ہوں بکریاں اونٹ وغیرہ تو جنگل میں انہیں کے پاس رہے شہر میں صرف جمعہ و عیدین کو آیا کریں،وہاں جنگل میں ہی اپنے نوکروں غلاموں کے ساتھ نماز باجماعت ادا کرلیا کرے لہذا حدیث واضح ہے۔اس پر یہ اعتراض نہیں کہ جنگل میں نماز باجماعت اورجمعہ و عیدین کیسے ادا کرے گا۔خیال رہے کہ جو جنگل شہر سے ملحق ہو وہاں کے باشندوں پر جمعہ و عیدین ہے اور جنگل شہر سے دور ہو اس سے ملحق نہ وہاں کے باشندوں پر نہ جمعہ فرض ہے نہ عیدین۔

۴؎  یعنی اسلامی سرحدوں(بارڈر)پر رہے اور تیاری جہاد میں مشغول رہے،بارڈر کے باشندے ہمیشہ کفار کے مقابلہ میں رہتے ہیں کبھی کفار انہیں مارجاتے ہیں کبھی یہ کفار کو انکی سرحد میں گھس کر مار آتے ہیں،لوٹ لاتے ہیں،بارڈر پر رہنا بھی عبادت ہے۔اس فرمان عالی میں اشارۃً بتایا گیا کہ ایسے فتنوں میں بھی تیاری جہاد میں مشغول رہنا چاہیے۔
Flag Counter