Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
245 - 4047
حدیث نمبر 245
روایت ہے حضرت ابو موسیٰ سے وہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی کہ آپ نے فرمایا قیامت کے آگے بہت فتنے ہیں اندھیری رات کے ٹکڑوں کی طرح ۱؎  ان میں آدمی صبح کو مؤمن ہو گا اور شام کو کافر اور شام کو مؤمن ہوگا اور صبح سویرے کو کافر ۲؎  ان میں بیٹھ رہنے والا کھڑے سے بہتر ہوگا   اور ان میں چلنے والے دوڑنے والے سے بہتر ہوگا۳؎  تو ان فتنوں میں اپنی کمانیں توڑ دو اپنی تانت کاٹ دو اور اپنی تلوار پتھر سے مار دو۴؎  پھر اگر تم میں سے کسی پر گھسا جاوے تو وہ حضرت آدم کے بہترین بیٹے(ہابیل)کی طرح ہوجاوے ۵؎(ابوداؤد)اور اسی کی ایک روایت میں خیر من الساعی تک کا ذکر فرمایا،پھر لوگوں نے عرض کیا کہ تب ہم کو حضور کیا حکم دیتے ہیں فرمایا اپنے گھروں کے ٹاٹ بن جانا ۶؎  اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فتنہ کے متعلق فرمایا کہ اس میں اپنی کمانیں توڑ دینا اور اس میں اپنی تانت کانٹ دینا ۷؎ اور اس میں اپنے گھروں کا اندرونی حصہ پکڑ لینا ہے۸؎ اور حضرت آدم کے بیٹے کی طرح ہوجانا ۹؎ اور کہا یہ حدیث صحیح ہے غریب ہے۔
شرح
۱؎ یعنی جیسے اندھیری رات میں کچھ سوجھتا نہیں یوں ہی ان فتنوں میں کچھ سوجھے گا نہیں،حق کیا ہے اور باطل کیا عجیب افراتفری کا زمانہ ہوگا۔

۲؎  ظاہر یہ ہے کہ صبح شام سے مراد قریبی اوقات ہیں،بعض لوگ ایسے مذبذب ہوجائیں گے کہ ابھی مؤمن ابھی کافر۔(مرقات)لوگوں کو ایمان کی پرواہ نہ رہے گی۔

۳؎  یہاں بیٹھنے والے سے مراد ہے ان فتنوں سے بے تعلق رہنے والا،چلنے والے سے مراد ہے معمولی تعلق رکھنے والا اور دوڑنے والے سے مراد ہے بہت مشغول اور فتنوں میں مبتلا،ظاہری بیٹھنا چلنا دوڑنا مراد نہیں،اس کی مفصل شرح پہلےگزرچکی۔

۴؎  یعنی اس زمانہ میں اپنے جنگی ہتھیار بے کار کردو تاکہ تم جنگ کے قابل نہ رہو کیونکہ اس وقت دونوں طرف مسلمان ہوں گے جس کو مارو گے مسلمان کو مارو گے لہذا اپنے کو مارنے کے قابل ہی نہ رکھو اسی میں بھلائی ہے۔

۵؎  یعنی اگر اس علیحدگی اور خلوت نشینی کے باوجود کوئی ظالم خونخوار خواہ مخواہ تمہارے گھر میں گھس کر تم پر حملہ کرے تو تم جوابی کاروائی نہ کرو قتل ہوجاؤ مگر مقابلہ نہ کرو۔اس حدیث کی شرح حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت ہے اگر آپ اس وقت باغیوں کا مقابلہ کرتے تو آپ کے مملوک دو سو غلام تھے اور ہزار ہا ساتھی بڑی سخت جنگ ہوتی اور زمین مدینہ خون سے رنگین ہوجاتی۔

۶؎  کہ جیسے گھر کا بچھا ہوا ٹاٹ گھر میں ہی رہتا ہے باہر نہیں جاتا تم بھی گھر میں رہنا باہر نہ جانا لوگوں سے ملنا جلنا بند کردینا،یہ مطلب نہیں کہ باجماعت نماز اور جمعہ و عیدین چھوڑ دینا۔مقصد یہ ہے کہ لوگوں سے خلط ملط چھوڑ دینا۔

۷؎ یعنی جنگ کے ہتھیار ختم کردینا تاکہ تمہارے دلوں میں کبھی جنگ کا خطرہ بھی نہ پیدا ہو،جنگ کرنا تو کیا جنگ کا خیال بھی نہ کرنا کہ دو طرفہ مسلمان ہوں گے جسے مارو گے مسلمان کو مارو گے۔

۸؎  یعنی گھر کے اندرونی حصہ میں خلوت و گوشہ نشینی اختیار کرنا جہاں باہر کے لوگ تمہارے پاس نہ آسکیں،گھر کی بیٹھک میں نہ بیٹھنا کہ وہاں خلوت مکمل نہیں ہوتی راہگیروں سے ملاقات ہو ہی جاتی ہے،سواء نماز اور ضروریات کے باہر مت نکلنا۔

۹؎  ابن آدم سے مراد ہابیل ہے جو ظلمًا مقتول ہوا،قابیل مراد نہیں یعنی ان فتنوں میں تم ظالم نہ بننا مظلوم بن کر مرجانا قبول کرلینا۔
Flag Counter