Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
239 - 4047
حدیث نمبر 239
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں اللہ کی قسم میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھی بھول گئے یا بھلا بیٹھے ۱؎ اللہ کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا ختم ہونے تک تمام فتنہ گروں کو ۲؎ جو تین سو یا کچھ زیادہ ہیں۳؎ نہیں چھوڑا مگر ہم کو ان کے نام بتادیئے اس کا نام اس کے باپ کا نام اس کے قبیلہ کا نام۴؎(ابوداؤد)
شرح
۱؎ یعنی واقعی ہی بھول گئے یا بھلا بیٹھے یا بھولے ہوئے بن گئے کہ ان کا کبھی ذکر نہیں کرتے۔خیال رہے کہ بھول جانے اور بھلا دینے میں فرق ہے۔ضروری بات بھول جانا گناہ نہیں مگر بھلا دینا گناہ ہے،بھلا دینے میں اپنی بے پرواہی کو دخل ہوتا ہے۔

۲؎ قائدہ بنا ہے قود سے بمعنی چلانا،ہانکنا،آگے سے کسی کو کھینچنا،سوق پیچھے سے ہانکنا،اس سے ہے سائق۔یہاں اس سے فتنہ پیدا کرنے والے فتنہ پھیلانے والے سردار مراد ہیں جیسے بے دین عالم جو نئے مذہب بری بدعتیں ایجاد کرکے لوگوں میں فتنہ برپا کرتے ہیں۔اس میں بہت وسعت ہے جس میں گمراہ کن علماء،جھوٹے مدعی نبوت،گمراہ بادشاہ سب ہی داخل ہیں جن سے لوگوں میں دینی فتنے پھیلیں۔یہ حدیث حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے علم غیب کی کھلی دلیل ہے۔

۳؎  یہاں بڑے بڑے فتنہ گر مراد ہیں جن میں سے ہر ایک کے ماتحت ہزار ہا فتنہ گر ہوں گے جیسے حضور انور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا کہ میری امت میں تہتر فرقے ہوں گے بہتر دوزخی ایک جنتی،وہاں بھی اصولی فرقے مراد ہیں جن میں سے ہر ایک کی صد ہا شاخیں ہیں،شیعوں کے بہت فرقے،مرزائیوں کی کئی شاخیں لہذا یہ حدیث صاف ہے اس پر یہ اعتراض نہیں کہ فتنہ گر تو تین سو سے کہیں زیادہ ہیں۔

۴؎  تمام عرب و عجم،مشرق و مغرب کے فتنہ گر سب ہی بتادیئے پھر صرف ان کا نام ہی نہ بتایا بلکہ پتہ بھی بتادیا،یہ ہے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا علم غیب جو اللہ نے انہیں بخشا۔
Flag Counter