۱؎ آپ تابعی ہیں،ہمدانی ہیں،مقام رے کے قاضی رہے ہیں،سفیان ثوری وغیرہم نے آپ سے روایات کی ہیں۔
۲؎ حجاج ابن یوسف عبدالملک ابن مروان کی طرف سے مدینہ منورہ کا حاکم تھا،ایسا ظالم تھا کہ اس نے ایک لاکھ تیس ہزار مسلمانوں کو باندھ کر قتل کیا ہے،جو مسلمان جنگوں میں اس کے ذریعہ قتل ہوئے وہ علاوہ ہیں۔(مرقات)
۳؎ یعنی آئندہ عمومًا سلاطین ظالم ہی ہوں گے زمانہ جس قدر حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے دور ہوتا جاوے گا ظلم و فساد بھی بڑھتا رہے گا لہذا حضرت عمر ابن عبدالعزیز کا دور یا آخر زمانہ میں حضرت امام مہدی و عیسیٰ علیہ السلام کا دور اس حکم سے علیحدہ ہے،ہر زمانہ پہلے زمانہ سے دین کے لحاظ سے بدتر ہے کبھی کوئی گناہ زیادہ کبھی کوئی گناہ غفلت وغیرہ زیادہ۔مرقات نے فرمایا کہ شر سے مراد بدعات کی اشاعت سنتوں کا چھوڑ دینا ہے یا یہ مطلب ہے کہ آئندہ حکام ظالم بھی ہوں گے بدمذہب بدعقیدہ بھی۔حجاج ظالم ہے مگر دین برباد کرنا نہیں چاہتا اس نے قرآن مجید میں اعراب لگوائے۔