| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابوبکرہ سے ۱؎ فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ عنقریب فتنے ہوں گے پھر فتنے،خبردار پھر فتنے ہوں گے۲؎ پھر وہ فتنے ہوں گے کہ ان میں بیٹھا ہوا چلتے ہوئے سے بہتر ہوگا اور چلتا ہوا دوڑتے ہوئے سے بہتر ہوگا ۳؎ آگاہ رہو کہ جب وہ فتنے واقع ہوں تو جس کے اونٹ ہو اور اونٹوں سے مل جاوے اور جس کی بکریاں ہوں وہ اپنی بکریوں میں چلا جاوے اور جس کی زمین ہو وہ اپنی زمین میں پہنچ جاوے ۴؎ تو ایک صاحب بولے یارسول اللہ فرمایئے تو جس کے پاس نہ اونٹ ہوں نہ بکریاں نہ زمین ۵؎ فرمایا وہ اپنی تلوار کی طرف رخ کرے اور اس کی دھار کو پتھر سے کوٹ دے پھر الگ ہونے کی طاقت رکھے۶؎ اے اللہ کیا میں نے پہنچا دیا(تین بار فرمایا)۷؎ پھر ایک شخص نے عرض کی یارسول اللہ فرمایئے تو اگر مجھے مجبور کیا جاوے حتی کہ مجھے دونوں صفوں میں سے ایک صف تک لے جایا جاوے پھر مجھے کوئی اپنی تلوار سے مار دے یا آوے کہ مجھے قتل کردے ۸؎ فرمایا وہ اپنا اور تمہارا گناہ لے کر لوٹے گا اور وہ دوزخی ہوگا ۹؎(مسلم)
شرح
۱؎ آپ کا نام نقیع ابن عبدالحارث ابن کلاہ ہے،ثقفی ہیں،آپ حضور انور کے آزادکردہ غلاموں میں سے ہیں،بصرہ میں رہے، ۴۹ھ انچاس میں وفات پائی۔(اکمال)بڑے متقی و پرہیزگار تھے،صحابہ کی آپس کی جنگوں میں آپ علیحدہ رہے۔ ۲؎ یہ فرمان عالی یا تو ان فتنوں کا تسلسل بیان فرمانے کے لیے ہے یعنی آگے پیچھے مسلسل فتنے ہوں گے یا ان کی بڑائی بیان کرنے کے لیے یعنی سخت سے سخت،اس سے سخت،اس سے بھی سخت فتنے ہوں گے جو سارے عرب کو گھیر لیں گے۔ ۳؎ یعنی مسلمان ان فتنوں سے جس قدر دور رہے اسی قدر اچھا،اس فرمان عالی کی شرح ابھی عرض کردی گئی۔ ۴؎ امن کے زمانہ میں شہر بہتر ہے گاؤں اور جنگل سے کہ شہر میں علم ہے جمعہ و عیدین بلکہ پنجگانہ کی جماعت ہیں کبھی جہاد کا موقعہ بھی مل جاتا ہے مگر فتنوں کے زمانہ میں شہر سے گاؤں بلکہ جنگل بہتر ہے کہ وہاں امن ہے عافیت ہے شہر میں فتنے ہیں۔ایک شاعر کہتا ہے ؎ ان السلامۃ من اللیل و جارتھا ان لا تمر علی حال یواریھا ۵؎ یعنی جس کے پاس گاؤں یا جنگل میں رہنے کا کوئی ذریعہ نہ ہو،نہ اپنی زمین ہو،نہ اپنے جانور ہوں نہ اور کوئی ذریعہ وہ کیا کرے اسے تو لامحالہ شہر میں ہی رہنا پڑے گا۔ ۶؎ نجات اگر ت سے ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں چھٹکارا یا عذاب سے بچ جانا اور اگر ہمزہ سے ہو تو اس کے معنی ہیں بھاگ جانا دور ہوجانا،یہاں ہمزہ سے ہے یعنی اس وقت تلوار نہ چلائے بلکہ اپنی تلوار بے کار کردے کیونکہ یہ لڑائیاں مسلمانوں کی آپس میں ہوں گی،وہاں سے بھاگ جانے فتنوں سے الگ ہوجانے کی کوشش کرے۔مسلمانوں کی آپس کی لڑائیں فساد کہلاتی ہیں،کفار سے جنگ جہاد ہے۔حضرت ابوبکرہ کا اور عبداللہ ابن عمر وغیرہم صحابہ کا مسلک یہ تھا کہ بغاوت کے موقعہ پر کسی طرف شرکت نہ کرے الگ رہے،ان کی دلیل یہ حدیث تھی۔عام صحابہ کرام کا مسلک یہ تھا کہ حق والے کی مدد کرے باغیوں کو کچل دے تاکہ بغاوت پھیلنے نہ پائے،ان کی دلیل یہ آیت تھی"فَقٰتِلُوا الَّتِیۡ تَبْغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمْرِ اللہِ"۔ان کے نزدیک حدیث بغاوت کے لیے نہیں بلکہ عام فسادات اور بلووں کے متعلق ہے یہ ہی قول زیادہ قوی ہے۔ ۷؎ یعنی میرے مولٰی گواہ ہوجا کیا میں نے تیرا یہ حکم تیرے بندوں تک پہنچادیا۔معلوم ہوا کہ فتنوں سے خبردار کرنا بھی ایک تبلیغی حکم ہے جس کا پہنچانا فرض ہے۔ ۸؎ یعنی اگر مجھ پر ایسا حال طاری ہوجاوے کہ میں الگ نہ رہ سکوں مجبورًا کسی فریق کے ساتھ جنگ میں کھڑا ہو جاؤں مگر میری نیت جنگ کی نہ ہو صرف جانا پڑ جاوے تو میری یہ موت کیسی ہوگی۔ ۹؎ یعنی اس مجبوری کی صورت میں تم گنہگار نہ ہوگے بلکہ تمہارا لے جانے والا یا تمہیں قتل کرنے والا گنہگار ہوگا ایسا کہ تمہارے گزشتہ گناہ بھی اس پر پڑیں گے۔باثمی و اثمك کی شرح ہم نے اپنی تفسیر میں اس آیت کی تفسیر میں واضح کردی۔