| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے ان ہی سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عنقریب ایسے فتنے ہوں گے ان میں بیٹھ رہنے والا بہتر ہوگاکھڑے ہونے والے سے اور ان میں کھڑا ہونے والا بہتر ہوگا چلنے والے سے اور ان میں چلنے والا بہتر ہوگا دوڑنے والے سے ۱؎ جو ان کی طرف جھانکے گا وہ اسے اچک لیں گے تو جو کوئی پناہ یا ٹھکانہ پائے تو اس کی پناہ لے لے ۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا ایسے فتنے ہوں گے کہ ان میں سونے والا جاگنے والے سے بہتر ہوگا۳؎ اور ان میں جاگنے والا کھڑے سے بہتر ہوگا اور کھڑا ہوا دوڑنے والے سے بہتر ہوگا ۴؎ جو کوئی ٹھکانا یا پناہ پائے تو اس کی پناہ لے لے۵؎
شرح
۱؎ اس فرمان عالی میں بیٹھنا،کھڑا ہونا،چلنا اور دوڑنا بطور تشبیہ و استعارہ ارشاد ہوا ہے۔بیٹھنے سے مراد ہے ان فتنوں سے الگ تھلگ رہنا،ان سے بالکل واسطہ نہ رکھنا،یہ ذریعہ ہوگا فتنوں سے حفاظت کا کہ وہ نہ فتنوں کو دیکھے گا نہ ان کا اثر لے گا۔اور کھڑے ہونے سے مراد ہے دور سے انہیں دیکھنا،ان پر خبردار اور مطلع ہونا۔چلنے سے مراد ہے ان میں مشغول ہونا مگر معمولی طور پر۔اور دوڑنے سے مراد ہے ان میں خوب مشغول ہونا غرضیکہ عجیب استعارات ہیں۔ ۲؎ بعض صحابہ کرام نے جنگ جمل و صفین کو اسی حدیث میں داخل مانا اور وہ حضرات ان جنگوں میں غیر جانب دار رہے جیسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ مگر قوی یہ ہے کہ ان جنگوں میں حضرت علی رضی اللہ عنہ حق پر تھے دوسرے حضرات سے اجتہادی غلطی ہوئی تھی۔ ۳؎ یہاں بھی نائم سے مراد بے خبر بے شعور ہے یعنی جو فتنوں سے ایسا بے خبر ہو کہ اسے ان کی خبر بھی نہ ہو۔ یقطان سے مراد ہے خبردار کہ اسے ان فتنوں کی خبر تو ہو مگر اس میں شریک نہ ہو،خبر سے مراد ہے خود بخود خبر ہونا نہ کہ ان کی خبر رکھنا۔ ۴؎ قائم سے مراد ہے باقی،قاعدہ اس فتنہ کی خبر رکھنے والا مگر اس میں شریک نہیں لہذا بیدار اور قائم میں فرق ظاہر ہے۔ ۵؎ ٹھکانہ سے مراد ہے امن کی جگہ اور پناہ سے مراد ہے وہ آدمی جو اسے فتنوں سے بچالے یعنی یا تو پناہ کی جگہ چلا جائے یا ایسے شخص کے پاس رہے جو اس کو ان فتنوں سے بچائے۔(مرقات)لہذا عبارت میں تکرار نہیں۔