| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے حضرت ابو سعید سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے قریب ہے کہ مسلمان کا بہترین مال وہ بکریاں ہوں جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں یا پانی کی جگہ لے جائے ۱؎ اپنا دین فتنوں سے بچاکر بھاگ جائے۲؎ (بخاری)
شرح
۱؎ شعف جمع ہے شعفۃ کی بمعنی بلند چوٹی۔اہل عرب پہاڑ کی چوٹیوں میں بھی اپنے مال مویشی رکھتے ہیں اور وہاں خود بھی رہتے ہیں،یہ جگہ زمین سے بہت بلند ہونے کی وجہ سے بڑے امن عافیت کی ہوتی ہے۔مواقع قطر سے مراد ہے وہ جنگل جہاں پانی کے چشمے،سبزہ زار،چراگاہ وغیرہ ہو،یہ تعمیم بعد تخصیص ہے یا اس کے برعکس۔ ۲؎ یعنی اس علیحدگی کی وجہ اپنے دین کی حفاظت ہو نہ کہ مسلمانوں سے نفرت کہ ایسے موقعہ پر لوگوں سے خلط ملط اپنے لیے دینی خرابی کا ذریعہ ہوتا ہے۔