Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
229 - 4047
حدیث نمبر 229
روایت ہے حضرت ابوہریرہ سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان فتنوں سے پہلے اعمال کرلو جو اندھیری رات کے حصوں کی طرح ہوں گے کہ انسان سویرا پائے گا مؤمن ہوکر شام کرے گا کافر ہوکر اور شام کرے گا ۱؎  مؤمن ہوکر سویرا پائیگا کافر ہوکر،دنیاوی سامان کے عوض اپنا دین فروخت کر دے گا ۲؎(مسلم)
شرح
۱؎ یعنی یہ موقع امن و امان کا غنیمت جانو جو نیکی کرنا ہے کرلو ورنہ ایسے فتنے اٹھنے والے ہیں اور ایسی بلائیں آنے والی ہیں کہ انسان کو کچھ نہ سوجھے گا کہ میں کیا کروں،دلوں کے حالات بہت جلد بدل جائیں گے۔یہاں کافر سے مراد یا تو واقعی کافر ہے یا بمعنی ناشکرا ہے،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کہ یہاں کافر مؤمن کے مقابل ارشاد ہوا۔

۲؎  یعنی معمولی دنیاوی لالچ میں اپنا دین چھوڑ دے گا،اس زمانہ کے علماء رشوت لےکر غلط فتوے دیں گے،حکام رشوتیں لے کر غلط فیصلے کریں گے،عوام پیسہ لے کر جھوٹی گواہی بلکہ شراب خوری،قتل تک کردیں گے یہ تو اب دیکھا جارہا ہے۔(از مرقات)
Flag Counter