۱؎ یعنی یہ موقع امن و امان کا غنیمت جانو جو نیکی کرنا ہے کرلو ورنہ ایسے فتنے اٹھنے والے ہیں اور ایسی بلائیں آنے والی ہیں کہ انسان کو کچھ نہ سوجھے گا کہ میں کیا کروں،دلوں کے حالات بہت جلد بدل جائیں گے۔یہاں کافر سے مراد یا تو واقعی کافر ہے یا بمعنی ناشکرا ہے،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کہ یہاں کافر مؤمن کے مقابل ارشاد ہوا۔
۲؎ یعنی معمولی دنیاوی لالچ میں اپنا دین چھوڑ دے گا،اس زمانہ کے علماء رشوت لےکر غلط فتوے دیں گے،حکام رشوتیں لے کر غلط فیصلے کریں گے،عوام پیسہ لے کر جھوٹی گواہی بلکہ شراب خوری،قتل تک کردیں گے یہ تو اب دیکھا جارہا ہے۔(از مرقات)