Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
228 - 4047
حدیث نمبر 228
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے خیر کے متعلق پوچھتے تھے اور میں شر کے متعلق پوچھتا تھا اس خوف سے کہ مجھے وہ پہنچ جاوے ۱؎ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ہم پہلے جہالت اور شر میں تھے پھر اللہ ہمارے پاس یہ خیر لایا ۲؎ تو کیا اس خیر کے بعد کوئی شر ہوگی۳؎ میں نے عرض کیا کہ کیا اس شر کے بعد خیرہوگی،فرمایا ہاں مگر اس خیر میں کدورت ہوگی۴؎ میں نے عرض کیا اس کی کدورت کیا ہے،فرمایا وہ قوم جو میرے طریقے کے خلاف طریقہ اختیار کرے گی اور میری عادت کے خلاف عادت قبول کرے گی۵؎  ان کی بعض باتیں اچھی پاؤ گے بعض بری،میں نے عرض کیا کہ کیا اس خیر کے بعد شر ہوگی،فرمایا ہاں۶؎  دوزخ کے دروازہ پر بلانے والے جو دوزخ کی طرف انکی بات مانے گا اسے دوزخ میں ڈال دیں گے۷؎ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ  ان کی علامات  بھی بتایئے،فرمایا وہ ہمارے گروہ سے ہوں گے ہماری زبان میں کلا م کریں گے۸؎  میں نے عرض کیا کہ اگر میں یہ پاؤں تو مجھے آپ کیا حکم فرماتے ہیں،فرمایا مسلمانوں کی جماعت ان کے امام کو پکڑے رہنا ۹؎ میں نے عرض کہ اگر مسلمانوں کی نہ جماعت ہو۱۰؎  نہ امام فرمایا تو ان تمام فرقوں سے الگ رہنا ۱۱؎  اگرچہ اس طرح ہو کہ تم کسی درخت کی جڑ دانتوں سے پکڑ لو حتی کہ تم کو اسی حالت میں موت آجائے ۱۲؎(مسلم،بخاری)اور مسلم کی روایت میں ہے کہ فرمایا میرے بعد ایسے پیشوا ہوں گے جو نہ تو میری سنت اختیار کریں گے نہ طریقہ پر چلیں گے ۱۳؎  ان میں کچھ لوگ اٹھیں گے جن کے دل شیطانوں کے دل ہوں گے انسانی جسموں میں۱۴؎ حضر ت حذیفہ نے عرض کیا یارسول اللہ   اگر میں یہ وقت پاؤں تو کیا کروں فرمایا اپنے امیر کی سنو اور اطاعت کرو اگرچہ تمہاری پیٹھ پر مارے اور تمہارا مال لے لے جب بھی سنو اور اطاعت کرو ۱۵؎
شرح
۱؎ یعنی صحابہ کرام حضور صلی اللہ علیہ و سلم سے خیر کی باتیں بہت پوچھتے تھے جیسے نیک اعمال،دنیاوی فراخی،آئندہ فتوحات تاکہ اس پر خوشی و شکر کریں مگر میں شر کی باتیں بہت پوچھتا تھا جیسے گناہ،فتنے،مالداری کے برے نتیجے تاکہ ان سے بچنے کی کوشش کروں۔ تحلیہ سے پہلے تخلیہ ہے،لباس و زیور سے پہلے غسل ہے،پہلے برائیوں سے بچو پھر نیکیاں کرو۔

۲؎  یعنی ہم اہل عرب پہلے انتہائی برائیوں میں گرفتار تھے پھر اللہ نے ہم کو انتہائی خیر،حضور کی نبوت،وحی،تقویٰ، طہارت ہم کو عطا فرمائی۔

۳؎  یعنی کیا حضور کے پردہ فرمانے کے بعد پھر ہم برائیوں میں آفتوں میں مبتلا ہوں گے۔

۴؎  یعنی اس شر کے بعد خیر آئے گی ضرور مگر خالص خیر نہ ہوگی اس میں شر کی ملاوٹ ہوگی۔دخن بنا ہے دخان سے بمعنی دھواں۔

۵؎ اس فرمان عالی میں اشارہ یا تو قتل عثمان و خلافت علی کی طرف ہے کہ قتل عثمان شر ہے اور خلافت علی خیر مگر اسی خلافت میں روافض و خوارج کا زور تھا یہ کدورت ہے،یا اس میں اشارہ ہے خلافت عمر ابن عبدالعزیز کی طرف کہ وہ خیرتھی مگر اس زمانہ میں بد مذہبوں کا زور تھا۔(از اشعہ و مرقات)اس کی شرحیں اور بہت کی گئی ہیں۔

۶؎  یعنی کیا اس مخلوط خیر کے بعد کوئی شر ہوگی جو خالص شر ہو اس خیر سے کہیں بدتر ہو۔

۷؎  یعنی ایسے پیشوا جو لوگوں کو ہدایت کے لباس میں گمراہی دیں گے،خیر دکھاکر شر پھیلائیں گے،سنت ظاہر کرکے بدعت پیش کریں گے،زہد ظاہرکرکے عیاشی کریں گے جو ان کی مانے گا وہ دوزخ میں جائے گا گویا یہ لوگ دوزخ میں بھیجنے کا سبب ہوں گے،یہ نسبت سبب کی طرف ہے۔

۸؎  یعنی کلمہ گو اور مدعی اسلام ہوں گے،عرب ہوں گے،عربی بولیں گے اس لیے لوگ ان سے بہت دھوکا کھایا کریں گے کیونکہ چھپے کافر سے بچنا بہت مشکل ہے۔روافض،خوارج،وہابیت،نجدیت وغیرہ سب عرب سے ہی پیدا ہوئیں۔

۹؎  یعنی وہ عقیدے رکھنا جو مسلمانوں کی جماعت کے ہوں،سلطان اسلام کی حمایت کرنا جو تم کو اﷲ رسول کے راستہ پر چلائے،ان تمام فرقوں سے الگ رہنا،جماعت مسلمین کے ساتھ رہنا فتنوں سے بچنے کا قوی ذریعہ ہے۔اہل سنت و الجماعت کے ساتھ رہو،تیرہ سو برس سے مسلمانوں کے جو عقائد چلے آرہے ہیں انہیں پر قائم رہو۔مثلًا آج ایک فرقہ کہتا ہے کہ خاتم النبیین کے معنی آخری نبی نہیں یا صلوۃ کے معنی یہ مروجہ نمازیں نہیں،حضور کے بعد اور نبی آسکتے ہیں،نمازیں دن رات میں صرف دو ہیں وہ بھی اسلامی نماز سے جدا گانہ،ہم دیکھیں گے کہ آج تک نماز کے متعلق مسلمانوں کے کیا عقیدے رہے ہیں وہی اختیار کریں یہ ایمان کی ڈھال ہے۔

۱۰؎  یعنی اگر ا یسا زمانہ آجاوے کہ مسلمانوں کا نہ کوئی بادشاہ ہو نہ وہ کسی کی امامت پر متفق ہوں تو میں کیا کروں۔

۱۱؎  یعنی اس صورت میں ان فرقوں میں سے کسی کے ساتھ نہ رہنا عقائد اہل سنت کے اختیار کرنا،اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو تو اس جماعت کے عقائد تو محفوظ ہوں گے وہ اختیار کرنا،یہ بھی قاعدہ کلیہ ہے۔

۱۲؎ اس فرمان عالی سے معلوم ہوا کہ عام حالات میں مسلمانوں کو بستی میں رہنا بہتر ہے تاکہ وہاں نماز باجماعت ادا کرسکے،وقت پر جہاد کرسکے،جمعہ وعیدین میں شرکت کرسکے،بہت سی عبادات جماعت پر موقوف ہیں مگر جب بستیوں میں فتنے زیادہ ہوجاویں تب عزلت وگوشہ نشینی بلکہ آبادیوں کا چھوڑ دینا بہتر ہے تاکہ ایمان سلامت رہے،لوگوں سے امان میں رہے،یہ حدیث ایسے ہی نازک حالات کے متعلق ہے۔درخت کی جڑ پکڑ لینے سے مراد بالکل خلوت و تنہا مقام پر چلا جانا ہے جہاں بستی کافتنہ نہ پہنچے۔

۱۳؎  ظاہر یہ ہے کہ آئمہ سے مراد سلاطین ہیں اور مطلب یہ ہے کہ بدعقیدہ بدعمل بادشاہ مسلط ہوجاویں گے اور ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد بدعمل بدمذہب پیروعلماء ہوں جیسے آج کل دیکھنے میں آرہے ہیں۔بھنگی چرسی،گانے باجے کے دلدادہ،بے نماز،بے روزہ مگر کہلاتے ہیں ولی،یہ ولی اللہ نہیں بلکہ ولی شیطان ہیں جیسے آج کل دیکھنے میں آرہے ہیں، اس مخبر صادق صلی اللہ علیہ و سلم نے ان سب کی خبر دی ہے۔

۱۴؎  یعنی یہ لوگ انسانی جسم میں شیطان ہوں گے،باتیں اچھی کریں گے،علم سے بے بہرہ،عمل کے خراب ہوں گے،ان سے علیحدگی ضروری ہے۔

۱۵؎ یعنی ظالم بادشاہ اسلام کے ظلم کی وجہ سے بغاوت نہ کرو کہ بغاوت سے ملک میں فساد ہوتا ہے جب تک کہ وہ ظالم بادشاہ دین بگاڑنے کی کوشش نہ کرے۔اسی فرمان عالی کے مدنظر حضرات صحابہ کرام نے بدترین ظالم حکام و سلاطین اسلام پر بغاوت نہ کی جیسے حجاج ابن یوسف وغیرہ ہر جائز بات میں  ان کی اطاعت کی ۔خیال رہےکہ امام حسین نے یزید کو سلطان اسلام مانا نہیں کہ وہ اس کا اہل نہ تھا،نااہل کو بادشاہ بنانا ممنوع ہے مگر جب بادشاہ بن چکا ہو تو اس کی بغاوت ممنوع ہے لہذا حضرت حسین کا عمل اس حدیث کے خلاف نہیں۔
Flag Counter