| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں کہ ہم کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے دو خبریں بتائیں ۱؎ جن میں سے ایک تو میں نے دیکھ لی اور دوسری کا منتظر ہوں۲؎ ہم کو خبر دی کہ امانت لوگوں کے دلوں کے اصل میں اتر ی ہے۳؎ پھر لوگوں نے قرآن سیکھا پھر حدیث سیکھی۴؎ اور حضور نے ہم کو اس کے اٹھ جانے کی خبر دی ۵؎ فرمایا آدمی ایک نیند سوئے گا تو اس کے دل سے امانت قبض کرلی جاوے گی۶؎ تو اس کا اثر چھالے کی طرح رہ جاتا ہے ۷؎ پھر ایک نیند سوئے گا تو امانت قبض کرلی جاوے گی حتی کہ اس کا اثر آبلے کی طرح ہوجاوے گا۸؎ جیسے تم اپنے پاؤں پر چنگاری لگاؤ تو ابھار ہو جاوے تم اسے پھولا ہوا دیکھو جس میں کچھ بھی نہ ہو ۹؎ لوگ خریدو فروخت کریں گے اور کوئی بھی امانت ادا نہ کرے گا۱۰؎ حتی کہ کہا جاوے گا کہ فلاں قبیلہ میں ایک امانت دار شخص ہے ۱۱؎ اور کسی شخص کے متعلق کہا جاوے کہ وہ کیسا عقلمند ہے کیسا خوش طبع ہے کیسا بہادر ہے حالانکہ اس کے دل میں رائی کے دانے کی برابر ایمان نہ ہوگا ۱۲؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ یعنی فتنوں کے زمانوں میں امانت کے متعلق دو خبریں دی لہذا یہ حدیث کتاب الفتن کے مناسب ہے۔ ۲؎ حضور انور نے نزول امانت کی بھی خبر دی اور اس امانت کے اٹھ جانے کی بھی دی،میں نے امانت کا نزول تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اس کے اٹھ جانے کا منتظر ہوں نہ معلوم یہ واقعہ میری زندگی میں ہو یا میرے بعد۔ ۳؎ امانت سے مراد یا تو ایمان ہے یا شرعی احکام،رب تعالٰی فرماتاہے:"اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ"۔ ممکن ہے کہ اس سے مراد دیانتداری ہو خیانت کی مقابل۔ ۴؎ اس سے معلوم ہوا کہ دلوں میں توفیق خیر پہلے ہوتی ہے،قرآن و حدیث کا سیکھنا عمل کرنا بعد میں میسر ہوتا ہے یہ وہ چیزیں ہیں جو ہم نے دیکھ لیں۔ ۵؎ یعنی آخر زمانہ میں روشنی ایمان دلوں سے نکل جاوے گی جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ قرآن و سنت پڑھنا ان پر عمل کرنا چھوڑ دیں گے۔ ۶؎ ظاہر یہ ہے کہ یہاں سونے سے مراد علم دین سے غفلت کرنا ہے اور نومۃ سے مراد معمولی غفلت ہے اس لیے کہ اس سے پہلے قرآن و سنت کے علم کا ذکر ہوا یعنی لوگ علم دین سے معمولی غفلت کریں گے تو اس کا نتیجہ وہ ہوگا جو یہاں مذکور ہے۔(اشعہ)اور ہوسکتا ہے کہ نوم سے مراد سونا ہی ہو تو مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے انقلاب کا حال یہ ہوگا کہ ابھی سونے سے پہلے دل کا اور حال تھا اور سوتے ہی کچھ اور ہوگیا۔(مرقات) ۷؎ وکت واؤ کے فتحہ کاف کے سکون سے جمع ہے وکتۃ کی بمعنی نقطہ سفید جو آنکھ کی سیاہ پتلی میں ہو،چھوٹے چھالے یا چھوٹے تل کو بھی وکت کہتے ہیں خواہ کالا تل ہو یا سرخ یعنی امین آدمی کے دل سے امانت ختم ہوجاوے گی مگر کچھ اثر باقی رہے گا۔ ۸؎ مجل میم کے فتح جیم کے سکون سے،آبلہ چھالا جو زیادہ کام کرنے سے ہاتھوں میں پڑ جاتا ہے،کھال سخت ہوجاتی ہے یعنی لوگوں کے دلوں سے امانت آہستہ آہستہ اٹھے گی،ایک بار غفلت میں امانت جائے گی دل میں خیانت آوے گی مگر معمولی جیسے چھالا دوبارہ غفلت میں یہ خیانت دل میں سخت ہوجاوے گی جیسے کام کرنے والوں کے ہاتھ کے سخت دہٹے آبلے۔ ۹؎ یہ مضمون علیحدہ ہے یعنی اگر کسی کا عضو معمولی چنگاری سے جل جاوے وہاں چھالا پڑ جاوے تو چھالا ابھرا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر اس میں سواء گندے پانی کے ہوتا کچھ نہیں،یوں ہی اس زمانہ کے لوگ لباس و شکل میں بہت اچھے دکھائی دیں گے مگر انکی دلوں میں خیر نہ ہوگی برائی ہی ہوگی۔ ۱۰؎ یعنی وہ لوگ آپس میں خرید و فروخت اور دوسرے مالی معاملات کریں گے مگر امین نہ ہوں گے،تجارتوں میں خیانت ملاوٹ سب ہی کچھ کریں گے اپنی زبان پر قائم نہ رہیں گے۔ ۱۱؎ یعنی امین آدمیوں کی اتنی کمی ہوجاوے گی کہ اگر کسی شہر کسی قبیلہ میں کوئی ایک امین ہوگا تو لوگ دور دور اس کا چرچہ کریں گے کہ اس علاقہ میں صرف وہ شخص امین ہے۔ ۱۲؎ یعنی آخر زمانہ میں لوگوں کی چالاکی دنیاکمانا چست و چالاکی ہونے کی تو تعریف ہوگی مگر اس کے دین تقویٰ امانت کا ذکر بھی نہ کیا جاوے گا،وہ ہوگا بے ایمان خائن جیساکہ آج کل عام چودھریوں نمبرداروں دنیا داروں میں دیکھا جاتا ہے، ہاں بعض اللہ کے مقبول بھی ہوتے ہیں مگر تھوڑے۔