| مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم |
روایت ہے انہیں سے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو فرماتے سنا کہ دلوں پر فتنے پیش آئیں گے ۱؎ جیسے چٹائی کا ایک ریگ جو دل فتنے پلا دیا گیا اس میں سیاہ دھبہ پیدا کر دیں گے اور جو دل انہیں برا سمجھے اس میں سفید داغ پیدا ہوجاوے گا۲؎ حتی کہ لوگ دو قسم کے دلوں پر ہوجائیں گے۳؎ ایک سفید جیسے سنگ مرمر اسے کوئی فتنہ نقصان نہ دے گا جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں اور دوسرا کالا راکھ ہمرنگ جیسے اوندھا کوزہ۴؎ وہ نہ بھلائی کو پہچانے نہ برائی کو برا جانے سواء اس خواہش کے جو اسے پلادی گئی ۵؎(مسلم)
شرح
۱؎ یہاں فتنوں سے مراد یا دنیاوی آفتیں اور مصیبتیں ہیں یا برے عقیدے برے اعمال ہیں وہ فتنے دور ہوجائیں گے مگر ان کے اثرات دلوں پر رہ جائیں گے جیسے مٹی یا ریتے پر چٹائی بچھاؤ تو اٹھ جاتی ہے مگر اس کے نشان مٹی پر رہ جاتے ہیں۔ ۲؎ یعنی جو شخص ان فتنوں کو اچھا سمجھے گا اس کا دل سیاہ ہوجاوے گا،وہ بے ایمان جیئے گا بے ایمان مرے گا اور جو ان فتنوں سے نفرت کرے گا اس کا دل نورانی ہوگا۔یہاں پلائے جانے سے مراد پسند کرنا چاہنا ہے،جیسے رب تعالٰی فرماتا ہے:"وَاُشْرِبُوۡا فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الْعِجْلَ"۔ ۳؎ یا تو لوگ دو قسم کے ہوجائیں گے: کالے دل والے اور سفید دل والے یا لوگوں کے دل دو قسم کے ہوجائیں گے: سفید اور کالے۔معلوم ہوا کہ گناہ سے الفت اور نفرت کا اثر دل پر پڑتاہے،پھر کبھی دل کا اثر چہرے پر نمودار ہوجاتا ہے چہرہ دل کی کتاب ہے۔ ۴؎ یعنی اس کا دل سیاہ بھی ہوگا اور ناقابل تاثیر جیسے الٹا کوزہ کہ اس میں کوئی چیز نہیں ٹھہرتی ایسے ہی اس دل میں کسی نصیحت کرنے والے کی نصیحت ٹھہرے گی نہیں،وہ دل کسی نصیحت کا اثر قبول نہ کرے گا یہ اللہ تعالٰی کا سخت عذاب ہے۔مجحن اجحاء کا اسم فاعل ہے بمعنی اوندھا اور الٹا ہوجانا۔ ۵؎ یعنی وہ شخص بجز اپنی دل پسند چیز کے کسی کو اختیار نہ کرے گا اگرچہ کتنی ہی اچھی ہو اور سوائے اپنی ناپسندیدہ چیز کے کسی چیز کو چھوڑے گا ہی نہیں اگرچہ کتنی ہی بری ہو،یہ ہے دل کی موت یا دل کا رین،رب فرماتاہے:"کَلَّا بَلْ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکْسِبُوۡنَ"۔