۱؎ فتن جمع ہے فتنۃ کی،فتنہ کے کل چودہ معنی ہیں: محنت، آزمائش،پسندکرنا،کسی پر فریفتہ ہونا،گمراہ ہونا،گمراہ کرنا،گناہ،کفر،رسوائی، عذاب،سونا،آگ میں گلانا،جنون محبت،لوگوں کے آپس کے جھگڑے و فساد۔(اشعۃ اللمعات)مؤلف اس بارے میں بہت سے باب باندھیں گے حتی کہ فضائل و مناقب کے باب بھی اسی بیان میں آئیں گے ان بابوں میں ان معانی کا لحاظ ہے۔
حدیث نمبر 225
روایت ہے حضرت حذیفہ سے فرماتے ہیں کہ ہم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جگہ قیام فرمایا ۱؎ آپ نے اسی جگہ میں قیامت تک ہونے والی کوئی چیز نہ چھوڑی مگر اس کی خبر دیدی۲؎ جس نے اسے یاد رکھا اس نے یاد رکھا جو بھول گیا وہ بھول گیا۳؎ یہ بات میرے یہ دوست جانتے ہیں۴؎ ان واقعات میں سے کوئی چیز ہوتی ہے جسے میں بھول چکا ہوتا ہوں پھر اسے دیکھتا ہوں تو ایسے یادکرلیتا ہوں جیسے کوئی شخص کسی کا چہرہ پہچان لیتا ہے جب وہ اس سے غائب رہا ہو پھر جب اسے دیکھے تو پہچان لے ۵؎(مسلم،بخاری)
شرح
۱؎ حضور انور کا یہ قیام آئندہ واقعات کی خبریں دینے کے لیے تھا جیساکہ اگلے مضمون سے ظاہر ہے۔ ۲؎ یعنی حضور نے ہر چھوٹے بڑے واقعہ حتی کہ قطرہ قطرہ ذرہ ذرہ کا بیان فرمادیا،یہ حدیث اس آیت کریمہ کی تفسیر ہے"وَعَلَّمَکَ مَا لَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ"جس سے معلوم ہورہا ہے کہ اللہ تعالٰی نے حضور کو ذرہ ذرہ قطرہ قطرہ کا علم بخشا،اتنے تھوڑے وقت میں یہ سب بیان فرما دینا حضور انور کا معجزہ ہے جیسے حضرت داؤد علیہ السلام آن کی آن میں زبور شریف پڑھ لیتے تھے۔خیال رہے کہ اللہ تعالٰی نے حضور انور کو سب کچھ سکھادیا جس سے حضور ان سب کے عالم بن گئے مگر حضور انور نے حضرات صحابہ کو یہ سب کچھ بتادیا سکھایا نہیں جس سے وہ صحابہ ان سب کے عالم نہیں بن گئے لہذا صحابہ کا علم حضور کے برابر نہیں ہوگیا جیسے اللہ تعالٰی نے حضرت آدم علیہ السلام کو تمام چیزوں کے نام سکھادیئے "وَعَلَّمَ اٰدَمَ الۡاَسْمَآءَ کُلَّہَا"جس سے وہ ان تمام کے عالم بن گئے مگر آدم علیہ السلام نے فرشتوں کو یہ نام بتادیئے سکھائے نہیں جس سے فرشتہ عالم نہ بنے "فَلَمَّاۤ اَنۡۢبَاَہُمْ بِاَسْمَآئِہِمْ"۔ ۳؎ یہ ساری باتیں تو کسی ایک کو بھی یاد نہ رہیں،بعض صحابہ کو زیادہ باتیں یاد رہیں،بعض کوتھوڑی،بعض کو بہت چیزیں بھول گئیں۔ ۴؎ یعنی جو صحابہ آج موجود ہیں انہیں یہ واقعہ یاد ہے جو میں نے بیان کیا کہ حضور انور نے یہ سب باتیں ایک مجلس شریف میں بتائی تھیں۔ ۵؎ یعنی بہت دفعہ واقعات ہمارے سامنے آکر ہم کو ہماری بھولی باتیں یاد دلادیتے ہیں کہ حضور انور نے یہ فرمایا تھا،دیکھو وہ واقعہ یہ ہے جیسے بھولا بچھڑا آدمی سامنے آجاوے تو پہچان لیا جاتا ہے۔سبحان اللہ! کیسی شاندار مثال ہے۔