روایت ہے حضرت نعمان ابن بشیر سے ۱؎ وہ حضرت حذیفہ سے راوی فرماتے ہیں،فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے تم میں نبوت رہے گی جب تک اس کا رہنا اللہ چاہے پھر اسے اللہ اٹھالے گا ۲؎ پھر ہوگی خلافت نبوت کے راستہ پر جب تک اللہ اس کا ہونا چاہے۳؎ پھر اسے بھی اللہ اٹھالے گا ۴؎ پھر کنکھنا ملک ہوگا ۵؎ پھر وہ رہے گا جب تک اللہ اس کا رہنا چاہے پھر اسے اللہ اٹھا لے گا پھر جبریہ سلطنت ہوگی۶؎ وہ بھی رہے گی جب تک اللہ اس کا رہنا چاہے،پھر اسے اللہ اٹھالے گا،پھر خلافت نبوۃ کی شہ راہ پر ہوگی ۷؎ پھر حضور خاموش ہوگئے،حبیب کہتے ہیں ۸؎ پھر جب عمر ابن عبدالعزیز قائم ہوئے تو میں نے انہیں یہ حدیث لکھ بھیجی میں ان کو یہ حدیث یاد دلاتا تھا میں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ آپ کنکھنے اور جبریہ ملک کے بعد مسلمانوں کے امیر ہوئے ۹؎ تو آپ اس سے بہت خوش ہوئے اور عمر ابن عبدالعزیز کو یہ بہت پسند آئی۱۰؎(احمد،بیہقی دلائل النبوۃ)
شرح
۱؎ حضرت نعمان بھی صحابی ہیں،ان کے والد بشیر بھی صحابی،نعمان پہلے وہ بچے ہیں جو بعد اسلام انصار کے گھر پیدا ہوئے،انکی پیدائش پر انصار کو بڑی خوشی ہوئی کیونکہ مدینہ منورہ میں مشہور ہوگیا تھا کہ یہود نے انصار پر جادو کردیا ہے اب ان کے ہاں اولاد نہ ہوگی،حذیفہ ابن یمان حضور کے صاحب اسرار صحابی ہیں۔ ۲؎ یہاں نبوت سے مراد حضور صلی اللہ علیہ و سلم کے ظہور کا زمانہ ہے جب لوگ صحابی بنتے تھے،یہ زمانہ حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات سے ختم ہوگیا اور پھر خلافت کا زمانہ آگیا اور حضور کی سلطنت کا زمانہ تا ابد ہے وہ کبھی ختم نہ ہوگا،نبی کی نبوت کا زمانہ اس کے نسخ سے ختم ہوتا ہے،حضور کی نبوت و سلطنت نہ کبھی منسوخ ہو نہ کبھی آپ کی نبوت جاوے،اب بھی حضور کا دور ہے حضور کا زمانہ ہے۔یہاں اٹھالے گا اس سے یہ ہی مراد ہے کہ ہماری وفات ہو جاوے گی لوگ ہمارے دیدار کو ترس جائیں گے۔ ۳؎ منھاج کے معنی ہیں وسیع راستہ (جرنیلی سڑک)رب تعالٰی فرماتاہے:"شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا"۔یہاں منہاج سے مراد ظاہر و باطن فیوض ہیں یعنی اس خلافت میں نبوت کے ظاہری وباطنی فیوض ہوں گے،یہ خلافت کل تیس سال رہے گی جیساکہ دوسری حدیث شریف میں ہے۔ ۴؎ چنانچہ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ نے چھ ماہ خلافت کرکے اس لیے امیر معاویہ کے حق میں دست برداری فرمائی ان چھ ماہ پر تیس سال پورے ہوگئے،اس کے بعد اسلام میں سلطنت کی بنیاد پڑی امیر معاویہ پہلے سلطان اسلام ہوئے۔ ۵؎ کھٹکنے ملک کے معنی ابھی پہلے عرض کردیئے گئے کہ اس زمانہ میں خلافت راشدہ جیسی نورانیت نہ ہوگی نہ اس زمانہ کا سا امن و امان ہوگا،اس زمانہ میں بعض لوگ بعض کو کاٹ کھائیں گے،یہ مطلب نہیں کہ وہ سلطنت لوگوں کو کھاٹ کھائے گی یا سلطان ظالم ہوں گے،ظلم والی بادشاہت کا ذکر تو آگے آرہا ہے۔ ۶؎ کہ اس دور میں لوگوں کی مرضی کے خلاف جبرًا لوگ سلطان بن جاویں گے خود بھی ظالم ہوں گے اور ان کے حکام بھی ظالم ہوں گے۔ ۷؎ اس زمانہ سے مراد حضرت امام مہدی رضی اللہ عنہ کی خلافت ہے جو قریب قیامت قائم ہوگی اس دور میں زمانہ رسالت کے تمام فیوض و برکات جاری ہوں گے،اس درمیان میں اگرچہ بعضے بادشاہ بڑے عادل ہوں گے جیسے حضرت عمر ابن عبدالعزیز یا سلطان محی الدین،اورنگ زیب عالمگیر وغیرہ مگر ان کی سلطنت خلافت علی منہاج النبوۃ نہ ہوگی۔(از مرقات و اشعہ) ۸؎ یہ حبیب ابن سالم ہیں،حضرت نعمان ابن بشیر کے آزادکردہ غلام،وہ اس حدیث کے ایک راوی اور حضرت نعمان کے کاتب ہیں۔ ۹؎ سبحان اللہ! کیسی احتیاط سے کام لیا کہ انہیں خلیفۃ المسلمین نہ کہا نہ انکی حکومت کو خلافت فرمایا بلکہ آپ ہیں تو سلطان اسلام مگر آپ کے زمانہ میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہے،آپ نے ظلم کی جڑیں کاٹ دیں،عدل قائم کیا، مسلمان آپ کو عمر ثانی کہتے تھے اور آپ کی حکومت کوخلافت فاروقی کا نمونہ کہا کرتے تھے۔ ۱۰؎ یہ خوشی شکریہ کی تھی کہ اللہ کا شکر ہے کہ لوگوں کا میرا متعلق یہ نیک گمان ہے،لوگوں کی زبان ان کا گمان اللہ کی طرف سے ہوتا ہے۔