Brailvi Books

مرآۃ المناجیح شرح مشکاۃ المصابیح جلد ہفتم
222 - 4047
حدیث نمبر 222
روایت ہے حضرت ابو عبیدہ اور معاذ ابن جبل سے ۱؎  وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے راوی فرمایا کہ یہ کام شروع ہوا نبوت اور رحمت سے۲؎ پھر ہوجاوے گا خلافت اور رحمت۳؎  پھر ہوجاوے گا کٹ کھیتی سلطنت۴؎ پھر ہو جاوے گا ظلم سرکشی اور زمین میں فساد۵؎ کہ لوگ ریشم اور زنا اور شرابوں کو حلال سمجھیں گے ۶؎  اس کے باوجود روزی دیئے جائیں گے،فتح دیئے جائیں گے حتی کہ اللہ سے ملیں گے ۷؎ (بیہقی شعب الایمان)
شرح
۱؎ حضرت ابوعبیدہ ابن جراح امین امت اور عشرہ مبشرہ سے ہیں اور معاذ ابن جبل عظیم الشان صحابی ہیں،ان کے حالات پہلے بیان ہوچکے یہ دونوں صاحب اس حدیث کے راوی ہیں۔

۲؎ امر سے مراد دین اسلام ہے،بدا یا تو بدو سے بمعنی ظاہر ہونا یا بدایۃ سے بمعنی شروع ہونا یعنی دین اسلام کی ابتداء یا اس کا ظہور ہماری نبوت سے ہے اور یہ نبوت سراسر رحمت الٰہی ہے کیونکہ ہم رحمۃ للعالمین  ہیں اور یہ امت مرحومہ ہے۔

۳؎  یعنی ہمارے بعد کوئی نبی نہ آوے گا کہ ہم خاتم النبیین ہیں،ہمارے نائب ہوں گے ان کا زمانہ خلافت کا دور ہوگا کہ خلفاء نائب نبی ہوں گے،ان کی بیعت بیعت سلطنت بھی ہوگی اور بیعت ارادت بھی اس لیے اس زمانہ کے لوگ کسی کے مرید نہ بنیں گے،اپنے خلیفہ کی رعایا بھی ہوں گے ان کے مرید بھی۔یہ زمانہ حضرات خلفاء راشدین تک رہا یعنی وفات شریف سے تیس سال تک خلفاء راشدین دین و دنیا دونوں کے پیشوا تھے،ان کی بیعت حضور اقدس کی بیعت تھی۔

۴؎  عضوض بنا ہے عض سےبمعنی دانت سے کاٹ کھانا یعنی اس دور کے بعد خلافت راشدہ ختم ہوجاوے گی، بادشاہوں میں صرف سلطنت رہ جاوے گی اور بادشاہ اکثر ظالم ہوں گے اگر دو چار عادل ہوئے تووہ شمار میں نہیں کہ اکثر کو کل کا حکم ہوتا ہے۔چنانچہ حضرت عمر ابن عبدالعزیز بنی امیہ کے بادشاہوں میں سے ہیں مگر آپ کا زمانہ نہایت ہی عدل و انصاف کا زمانہ ہوا،آپ کے مناقب احادیث شریفہ میں مذکور ہیں۔(مرقات)لہذا یہ حدیث اس کے خلاف نہیں کہ یہاں اکثریت کا ذکر ہے،حضرت امیر معاویہ بھی اسلام کے سلطان ہیں ظالم نہیں کہ وہ صحابی ہیں صحابہ ظالم نہیں ہوتے۔

۵؎  یعنی کچھ عرصہ کے بعد ایسے بادشاہ مسلط ہوں گے جن سے زمین میں بڑا فساد پھیلے گا کہ نا اہل سلطان ہوں گے، نا اہل ہی حکام رعایا پر ظلم کریں گے،نا اہلوں کو عہدے دیں گے،علماء صالحین کو ذلیل کریں گے،مشرکین و کفار پر جہاد کرنے کی بجائے خود مسلمانوں سے لڑیں گے اسی لیے علماء فرماتے ہیں کہ جو اب حکام یا بادشاہ کو عادل کہے وہ کافر ہے،کچہریوں کو عدالت کہنا حرام ہے۔(مرقات)کہ اب کچہریاں عدالت نہیں بلکہ انسانوں کے مذبح ہیں،نوے فیصدی ظلم ان کچہریوں کے سر پر ہورہے ہیں۔حضور کی پیش گوئی حرف بحرف ظاہر ہورہی ہے،اﷲ تعالٰی زمانہ کے شر سے بچائے۔

۶؎  یعنی زنا،ریشم،شراب بے پرواہی سے استعمال کریں گے گویا بالکل حلال ہے یا یہ مطلب ہے کہ حیلے بہانے بناکر انہیں حلال ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔یہ حدیث پڑھو اور آج کل کے حالات دیکھو،یہ ہے اس غیب داں رسول کا علم غیب۔

۷؎ یعنی اللہ تعالٰی ان پر عذاب نہ بھیجے گا ان کے ظالموں کے باوجود وہ روزی پائیں گے،اگر کبھی کفار پر جہاد کریں گے تو اللہ تعالٰی انہیں فتح دے گا کیونکہ اسی امت پر دنیا میں عذاب نہیں آوے گا۔اس فرمان عالی کا ظہور ۶ستمبر ۱۹۶۵ء؁ اس جنگ میں ہوا جو بھارت اور پاکستان میں ہوئی،اللہ تعالٰی نے پاکستان کو بھارت کی پانچ گنا طاقت پر فتح دی یہ اس کی مہربانی ہے۔اﷲ سے ملنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی سزا و جزاء قیامت پر رکھی گئی ہے دنیا میں رحمت کا ظہور ہے۔
Flag Counter