۱؎ یعنی دوسرے نبیوں کی امت کے مقابل میری امت پر حق تعالٰی کی رحمت زیادہ ہے،اس کی نیکیاں کم،ثواب زیادہ ہیں۔گناہوں کی معافی کے ذریعے بہت دیئے،بچانے کے بہانے بہت زیادہ ہیں،یہ صدقہ ہے رحمت والے آقا کا ؎
عرب کے واسطے رحمت عجم کے واسطے رحمت وہ آئے لیکن آئے رحمۃ للعالمین ہوکر
۲؎ یعنی اس امت پر آخرت میں عذاب سخت نہیں یا عذاب رسوائی والا نہیں یا عذاب دائمی نہیں لہذا یہ فرمان عالی عذاب والی احادیث کے خلاف نہیں۔بعض شارحین نے کہا کہ اس امت کے گنہگاروں کے لیے عذاب قبر عذاب آخرت کا کفارہ ہے مگر پہلی بات قوی ہے یا چھوٹے گناہ اکثر کفارات سے بخشے جائیں گے ان پر عمومًا عذاب نہ ہوگا۔
۳؎ یعنی دنیاوی یہ مصیبتیں گناہ صغیرہ کا کفارہ بن جاتی ہیں حتی کہ کانٹا جو پاؤں میں چبھ جاوے وہ بھی کفارہ ہے۔